خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد۵ 856 خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء صرف کرنا چاہئے اور سال کا آغاز ہمیں کس طرح شروع کرنا چاہئے۔میں نے شروع میں مثال دی تھی کہ جو خاص ایسے طبقے کے لوگ ہیں جو خاص کسی مضمون سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کا جب سال ختم ہو رہا ہوتا ہے تو وہ شرابیں پی کے ختم نہیں کرتے یا سال شروع ہوتا ہے تو شرابیں پی کے شروع نہیں کرتے بلکہ بڑا ایک معنی خیز انجام ہو رہا ہوتا ہے اس سال کا۔ایک اکا ؤ سمٹنٹ ہے اس کا سال جب ختم ہو رہا ہوتا ہے تو اسے بعض دفعہ گھر آنے کی بھی فرصت نہیں ملتی دفتر سے ، اپنے حسابات کی چھان بین کر رہا ہوتا ہے۔ایک طالب علم ہے اگر سارا سال اس نے نہ بھی پڑھا ہو تو ان چند دنوں میں راتیں جاگ کر گزار رہا ہوتا ہے اور سال کا آغاز اس طرح کرتے ہیں کہ دوبارہ کتا بیں ٹھیک کرتے ہیں ، غلطیاں اپنی دیکھ کر ان سے استفادہ کرتے ہیں کہ آئندہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں ،حروف کے کالم درست ہوں ، ہندسوں کے کالم درست ہوں، کتابوں پر بچے ورک چڑھاتے ہیں، کا پیاں بناتے ہیں نئی۔تو جہاں تک سنجیدہ لوگوں کے سالوں کے آغاز یا انجام کا تعلق ہے جو سنجیدہ مضامین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان کا طبعی فطری رد عمل تو یہ ہوتا ہے۔اس لئے دسمبر کا مہینہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس اہمیت کو اللہ تعالیٰ نے از خود ہم پر اس طرح روشن کر دیا بغیر ہماری کسی سکیم کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رہنمائی فرمائی کہ دسمبر ۲۶ ۲۷ ۲۸ تین تاریخوں میں سالانہ مذہبی اجتماع کیا کریں۔چنانچہ یہ وقت جو آج چھپیں ۲۶ ہے ۲۶ سے کچھ پہلے اور ۲۸ کے کچھ بعد تک ساری جماعت احمدیہ کی توجہ روحانی اور دینی اور علمی امور کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے۔کچھ خدا کی خاطر سفر کر رہے ہوتے ہیں، کچھ خدا کی خاطر سفر سے آنے والوں کے لئے تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں ، کچھ علماء تقریریں تیار کر رہے ہوتے ہیں، کچھ سننے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ایک عجیب ماحول ان دنوں میں قادیان میں ہوا کرتا تھا اور بوہ میں بھی ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری جماعت کسی مقتدر اور مد بر خدا کے ہاتھ میں ہے۔وہ اتفاقاً پیدا ہونے والی جماعت نہیں ہے یعنی انسان کی زندگی جس طرح نہ اتفاقاً پیدا ہوئی نہ اتفاقا ختم ہوگی اسی طرح جماعت احمدیہ کی باگ دوڑ بھی اور جماعت احمدیہ کا نظام حیات اور نظام ممات بھی ایک مقتدر، کارساز ہستی کے ہاتھوں میں ہے اور اس نے ہمیں از خودان رستوں پر چلا دیا ہے جن رستوں پر باشعور اور بالغ نظر تو میں چلا کرتی ہیں۔اس لئے ہمیں اپنے موت