خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد ۵ 849 خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء فلسفہ حیات کا پر معارف بیان اپنے وقت کو ضائع نہ ہونے دیں ( خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ تلاوت کی : وَقَالُوْا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ پھر فرمایا : ( الجاثیه : ۲۵) قرآن کریم کی یہ آیت جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے مادی فلسفہ حیات کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ مادی اقوام یعنی مادہ پرست قو میں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوں یا مغرب سے اُن دونوں میں قدر مشترک یہی فلسفہ زندگی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ : وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْیا سوائے اس کے کچھ بھی نہیں ہے جو ہماری دنیا کی زندگی ہے نَمُوتُ وَنَحْيَا اس میں ہم مرتے بھی رہتے ہیں اور زندہ بھی ہوتے رہتے ہیں وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ سوائے زمانے کے کوئی طاقت ہمیں مارتی نہیں ۔ اور یہ خیال کہ بیرونی ایک طاقت ہے جس کا نام خدا ہے، جو ذ والاقتدار ہے، وہی زندہ بھی