خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 833

خطبات طاہر جلد۵ 833 خطبہ جمعہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۶ء رہتا ہے اور کبھی مندمل نہیں ہوتے۔ان کے انتقام کا جذ بہ مندمل ہی نہیں ہوتا ہے اور یہ پھر اپنے انتقام کے زخم کھرچتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دوبارہ پھر ایسی سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوبارہ مومن کو تکلیف ہو ان کی ساری زندگیاں تعذیب کیلئے وقف ہیں۔آنحضرت علیہ رحمۃ للعالمین تھے۔ایسے لوگ وہ ہیں جو زحمۃ للعالمین ہوتے ہیں جن کو لطف ہی عذاب دینے میں آتا ہے۔اس کے سوا لطف ہی نہیں آتا اور ہر عذاب کے بعد دوسرے عذاب کی سوچتے ہیں۔اگر خدا واقعہ عدل ہے اور وہ مجرم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچاتا ہے اور اسی طریق پر اس سے سلوک کرتا ہے جس طرح وہ خدا کے معصوم بندوں سے سلوک کرتا رہا تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی نقشہ بنتا ہی نہیں کہ اس دنیا میں تم میرے پیاروں سے یہ سلوک کیا کرتے تھے۔اب حق ہے میرے پیاروں کا مجھ پر کہ میں تم سے وہ سلوک کروں۔پس کوئی نا انصافی نہیں کلام الہی میں۔یہ ان لوگوں کی سزا ہے صرف جو خدا کے بندوں کو دکھ دینے میں اعادہ کرتے چلے جاتے ہیں اور خصوصیت سے ان کی سزا کا ذکر ہے۔تو تم اس دنیا میں بھی ہارے ہوئے ہو اور اس دنیا میں بھی ہارے ہوئے ہو اور خدا کی قسم ہم اس دنیا میں بھی کامیاب ہیں اور بفضلہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے۔