خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد۵ 832 خطبہ جمعہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۸۶ء تمہارے دل میں جو آگ جل رہی ہے یہ جلتی رہے گی۔تم تو بار بار آگ جلانے کی ہر کوشش کرتے ہو اور قرآن کریم کی یہ آیت بار بار تم پر ثابت ہوتی چلی جارہی ہے اور تم اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہو کہ اس آگ کے نتیجہ میں ہم جو یہ سمجھتے تھے کہ دشمن جل جائے گا۔یعنی وہ جس کو دشمن سمجھ رہے ہیں اور ہمیں تسکین نصیب ہوگی وہ نہیں ہو سکی۔جتنی کوششیں اب تک یہ جماعت احمدیہ کے متعلق کر چکے ہیں ہر کوشش کے بعد یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ بات نہیں بنی ، وہ نتیجہ پیدا نہیں ہوا اور پھر ایک اور آگ لگ جاتی ہے دوبارہ کہ اب ہم ماریں گے۔اب ہمیں چین آجائے گا اس سے زیادہ بڑھتے ہیں پھر وہ مارنے کی کوشش کرتے ہیں پھر بد نصیب رہتے ہیں اور چین نصیب نہیں ہوتا ہے اس لئے کہ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمُ الله ان کا نور لے جاتا ہے وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمتٍ لَّا يَبْصِرُونَ اور ان کو ایسے اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے کہ ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے ہوئی کیا؟ بظاہر ہم غالب آگئے تھے، بظاہر ہم کامیاب ہو گئے تھے مگر ہمیں تسکین نہیں ملی اور ہمارا دشمن جل کر خاکستر نہیں ہوسکا۔یہ جو بار بار کی آگ لگتی ہے ان کے دل میں اور بار بار اس کو بجھا کر اپنے دل کو تسکین چاہتے ہیں ، ان کے مقدر میں یہ کبھی نہیں ہے۔اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے قرآن کریم کی ایک اور آیت کا مفہوم بھی مجھےسمجھ آ گیا اور وہ وہی آیت ہے جس کی میں نے تلاوت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو قرآن کریم میں بیان فرمایا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ اتنا سخت فیصلہ کیوں فرمایا ؟ انسان کسی کو آگ میں ڈالتا ہے جلاتا ہے اس لئیکہ وہ سزاوار ہے اور اگر اس جلن اور تپش کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ اس کے اندر دفاعی طاقت پیدا ہو جائے یا دکھ کم محسوس کرنے لگے تو دوبارہ ان زخموں کو چھیلا تو نہیں کرتا۔یہ کوشش تو نہیں کرتا کہ پھر اس کی جلد کچی کروں اور پھر اس کو سزا ہو یہ تو بہت ہی سخت انتظامی کا روائی ہے اور اللہ تعالیٰ منصف کامل ہے اور اللہ تعالیٰ تو خود عدل ہے۔اس لئے کیسے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خود اس قدر سخت یعنی اس قسم کی کارروائی کی وعید دے رہا ہے، یہ مضمون میں سوچا کرتا تھا۔اب مجھے سمجھ آئی کہ جس قسم کے لوگوں کے لئے وعید ہے ان کے لئے یہی عدل کا تقاضا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو ایک دکھ دیتے ہیں اور اس دکھ کے نتیجہ میں جب وہ بندے اس دکھ کے عادی بن جاتے ہیں تو ان کے اندر ایک اور آگ بھڑک اٹھتی ہے جس طرح بندر اپنے زخم کھرچتا