خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 826 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 826

خطبات طاہر جلد۵ 826 خطبہ جمعہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۶ء ہے۔ایک ہے تاریخ الخلفاء حضرت امام جلال الدین سیوطی کی جس کے اردو تر جمہ کے۹۰۔۹۱صفحہ پر یہ روایت جس میں لا اله الا الله محمد رسول اللہ اور دیگر چارا سلام کے ارکان کا ذکر ہے کہ جو یہ کہے گا اس کے خلاف تمہیں کوئی جنگ کا حق نہیں ہے۔وہیں تلوار چھوڑ دو ، تلوار گرا دو اور دوسری روایت بھی تاریخ الخلفاء کی ہے اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بیان ہے جو گفتگو اور بحث ان کی حضرت ابو بکر صدیق سے ہوئی اس میں حضرت ابو بکر نے سوائے زکوۃ کے کسی اور چیز کا ذکر نہیں کیا اور بہت ہی ایک معقول استدلال پیش کیا کہ زکوۃ صرف ایک دینی مسئلہ نہیں ہے۔زکوۃ ریاست کا حق ہے اور یہ سارے وہ لوگ ہیں جو اسلامی ریاست کو تسلیم کر چکے تھے اور زکوۃ دے رہے تھے۔اس لئے آپ کا اصرار یہ تھا کہ جس نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں زکوۃ دی ہے اور وہ اسلامی ریاست کی بالا دستی کو تسلیم کر چکا ہے۔اب وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا ہے۔اس لئے اصل زور اسی بات پر ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی ساری لڑائی منکرین زکوۃ سے تھی چنانچہ اسی لئے تاریخ پر تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہاں اس مہم کا نام ہی منکرین زکوۃ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق کی لڑائی رکھا گیا ہے اور ان مخالفین کا نام ہی منکرین زکوۃ رکھا گیا ہے اور وہ سارے کے سارے نہ آنحضرت ﷺ کے علاوہ کسی کی نبوت کے قائل تھے اور جو قائل تھے ان میں سے کسی پر بھی یہ شرط نہیں لگائی گئی کہ جب تک کوئی کسی جھوٹے نبی کا کا انکار نہیں کرے گا اس وقت تک تم نے اس سے لڑائی جاری رکھنی ہے کیونکہ وہ مسئلہ ہی نہیں تھا۔پھر جھوٹے دعویداران میں سے بعض اس وقت لڑائی کے دوران قتل نہیں ہوئے اور وہ بعد میں مسلمان بھی ہوئے۔اگر ان کا قتل واجب ہو گیا تھا اور یہی ان مولویوں کے نزدیک فتویٰ بھی ہے کہ ایک دفعہ ارتدار اختیار کر لو پھر تو بہ کر ہی نہیں سکتے۔تو بہ بھی کر لو گے تب بھی قتل کر دئے جاؤ گے کیونکہ یہ فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے کہ تو بہ سچے دل سے کی ہے یا نہیں۔کتنا بڑا جھوٹ ہے۔آنحضرت ﷺ پر پہلے افترا باندھا گیا پھر حضرت ابوبکر صدیق پر افترا باندھا گیا۔ساری تاریخ اسلام کو جھٹلایا گیا اور سخ کیا گیا صرف یہ ثابت کرنے کی خاطر کہ احمدی مرتد ہیں اور جو الزام لگایا گیا ہے وہ ویسے احمدیوں پر صادق ہی نہیں آتا یعنی اگر یہ سارا جہاد تھا ہی اس لئے کہ ختم نبوت کے کچھ لوگ منکر تھے تو احمدی تو ختم نبوت کے منکر نہیں۔وہ جو جھوٹے دعویداران نبوت تھے وہ تو آنحضرت کے شریک بنے ہوئے تھے۔آپ کی شریعت کو مسخ کرنے کے لئے آئے تھے۔