خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 825
خطبه جمعه ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء خطبات طاہر جلد ۵ 825 لئے میں مجبور ہوں بلکہ حضرت ابو بکر صدیق کا جواب یہ تھا کہ یہ زکوۃ دے رہے تھے آنحضرت علی صلى الله عروسه کے زمانہ میں یہ ریاست کا حق ہے اور آنحضرت ﷺ کی نصیحت یہ تھی کہ جو شخص کسی کا حق چھینے اس سے جبرا حق چھینا جہاد ہے، واپس لینا جہاد ہے۔ اس لئے اسلامی ریاست میں جو لوگ زکوۃ دے رہے تھے اگر وہ ایک کجھور کی گٹھلی کے برابر بھی اس کی لکیر کے برابر بھی زکوۃ روکیں گے تو میں ان سے لڑائی کروں گا۔ کہاں ہے وہ اجرائے نبوت کا ذکر، کہاں ہے ختم نبوت کا ذکر ؟ ۔ اس کا کوئی دور کا تعلق بھی اس جدو جہد کا جو عظیم جدو جہد تھی اجرائے نبوت کے تصور سے ہے ہی نہیں ۔ کہیں اشارہ بھی اس کا ذکر نہیں ۔ وہ باغی جنہوں نے زکوۃ روکی ان میں مسیلمہ کذاب بھی تھا اور ایک شاعرہ عورت سجاح بھی شامل تھی جس کے ساتھ اس سے پہلے مسیلمہ نے شادی کر لی تھی اور ایک دو اور لوگ بھی تھے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت خالد بن ولید کو اس ساری مہم کا سردار بنایا اور سردار بنا کر کچھ نصیحتیں فرمائیں ۔ فرمایا کہ تم نے جنگ کرتے چلے جانا اس وقت تک جب تک یہ پانچ باتیں نافذ نہ ہو جائیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے پانچ بنیادی باتیں اسلام کی بیان فرمائیں فرمایا کہ کوئی شخص بھی لا اله الا الله محمد رسول الله کا اقرار کرے، کوئی شخص پانچ وقت نماز کا قائل ہو، رمضان کے روزے رکھے، حج بیت اللہ کرے اور زکوۃ کی ادائیگی کرے تو پھر جنگ ختم ہو جائے گی لیکن کہیں بھی نہ اجرائے نبوت کے انکار کے انکار کا ذکر ۔ نہ جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر اشارہ بھی کسی ہدایت میں نہیں ملتا۔ یہ بحث الگ ہے کہ آپ نے یہ پانچ باتیں کیوں بیان فرمائیں میں اس وقت یہ گفتگو نہیں کر رہا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں یہ سراسر افتراء ہے جو رسول حضرت پاک ہی پر باندھا گیا کہ آپ نے آخری یہ ہدایت فرمائی اور حضرت صلى الله ابو بکر صدیق پر باندھا گیا کہ آپ نے یہ ساری لڑائی اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں کے خلاف کی تھی۔ پھر تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ سارے قبائل ان جھوٹے مدعیان نبوت کے قائل ہی نہیں تھے۔ بھاری اکثریت قبائل کی وہ تھی جو صرف زکوۃ کے منکر ہوئے تھے۔ بعض دوسری روایات میں ان پانچ باتوں کا ذکر نہیں ملتا بلکہ جیسا کہ حضرت عمر کی روایت ہے اور اس میں حضرت ابو بکر صدیق صاف فرماتے ہیں اور یہ وہی تاریخ جو دونوں حوالے دے رہی