خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 819

خطبات طاہر جلد۵ 819 خطبہ جمعہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۶ء دے دیں یا اسمبلی نے ان کو غیر مسلم کہہ دیا یا ان کے نکاح حرام کر دیئے، تو یہ معمولی باتیں ہیں جماعت احمدیہ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔بہت ہی گھٹیا اور کمینی باتیں ہیں لیکن ایک احمدیت کے دشمن مولوی کا اپنی زبان سے یہ اقرار کر لینا کہ گزشتہ چند سالوں میں ہماری ساری کوششوں کے باوجود یہ جماعت اس تیزی کے ساتھ ترقی میں آگے بڑھی ہے اور ہر میدان میں آگے بڑھی ہے۔انہوں نے مختلف میدانوں کا ذکر کیا تفصیل سے کہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ جماعت کس تیزی کے ساتھ آگے قدم بڑھاتی چلی جارہی ہے۔یہ اقرار ہے جو اصل ذلت ہے اور اصل رسوائی ہے خدا کے نزدیک۔دشمن ساری کوششوں کے باوجود خودا اپنی نا کامی کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گیا۔جو دوسری کوشش ہے اس کے لئے سب سے پہلا قدم ان کا یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کوظلم اور تعدی کے ساتھ اور جبراً کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ سے توڑنے کی کوشش کی جائے اور اس ضمن میں علماء اور حکومت کے درمیان جو ملی بھگت ہوئی وہ یہ تھی کہ حکومت سارے قانونی ذرائع اختیار کرے اور حکومت کی طرف سے جو بھی سختیاں کی جاسکتی ہیں وہ جماعت احمد یہ پر روا رکھی جائیں سینکڑوں کو جیلوں میں پھینکا جائے۔پولیس کو کہا جائے ان کو زدو کوب کرے اور ہر طرح کی تنگیاں اور تکلیفیں پہنچائی جائیں اور مولوی اپنے چیلے چانٹے لے کر اس حالت میں کہ احمدی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں ان کو ماریں، کوٹیں اور انھیں ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کریں۔یہ وہ دور باؤ تھے عوام کا دباؤ تو وہ پیدا نہیں کر سکے لیکن چند مولوی اپنے چند چیلے چانٹوں کے ساتھ احمد یوں پر ایسی حالت میں کہ وہ کوئی دفاعی کا رروائی نہیں کر سکتے تھے ہر قسم کے ظلم و تشد دروار کھتے رہے اور حکومت نے بھی نہ صرف یہ کہ کھلم کھلا بار بار اس بات کا اعلان کیا کہ حکومت احمدیوں کے خلاف اس تحریک کی مددگار اور معاون ہے بلکہ با قاعدہ رسمی طور پر گورنروں کو اور دوسرے عہدے داران کو بار بار حکومت کی طرف سے سنجیدہ ہدایتیں بھی دی جاتی رہیں۔پہلی قسم کے اعلانات کو بعض لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے ، وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی سیاسی کارروائیاں ہیں وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے مولویوں کو خوش کرنے کے لئے ایسی باتیں کر دیتی ہے حکومتیں اس طرح کرتی رہتی ہیں۔اس لئے جو سول سروس ہے یا پولیس وغیرہ کے عہدیداران ہیں وہ عموماً ایسی باتوں کو نظر انداز کر دیا کرتے ہیں لیکن جو حکم رسماً با قاعدہ سیاہ وسفید میں جاری ہو اور گورنروں کی طرف سے نزول کرتا ہو چھوٹے عہد یداران تک پہنچے