خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد ۵ 818 خطبه جمعه ۱۲ار دسمبر ۱۹۸۶ء ساتھ اپنی طرف بلا رہی ہیں۔ایک منزل ترقی کی طے کرتے ہیں تو دوسری منزل سامنے کھڑی ہو جاتی ہے دوسری طے کرتے ہیں تو تیسری کھڑی ہو جاتی ہے۔ہمالہ کی قدم بقدم چوٹیاں تو پھر ختم ہو جاتی ہیں لیکن اسلام کی ترقی کی طرف جو چوٹیاں ہمیں دعوتیں دے رہی ہیں اور دن بدن ہماری امنگیں بڑھا رہی ہیں وہ چوٹیاں لامتناہی ہیں، کبھی نہ ختم ہونے والی ہیں۔اس لئے اس کوشش میں دنیا پاکستان کے اسلام دشمنوں سمیت ساری دنیا کے اسلام دشمن مل کر بھی کلیہ نا کام اور نا مراد ہو چکے ہیں اور برعکس نتیجہ نکلا ہے۔اس بات کی تشہیر کی کوشش کی گئی ہے۔یہاں عیسائیوں نے یہ باتیں کی ہیں کہ جماعت احمد یہ ہم سے کیا مقابلہ کرتی ہے وہ تو مسلمانوں کی جماعت ہی نہیں۔ناروے میں پادریوں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ آئندہ سے ہماری ان سے کوئی بحث ہی نہیں رہی اب یہ پہلے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ لائیں جب یہ مسلمان ہونا ثابت کریں گے تو پھر ان سے گفتگو کریں گے لیکن دنیا عقل و فہم کے ایک ایسے مقام تک پہنچ چکی ہے کہ ان سارے لغو اعتراضات کو خود عیسائی دنیا نے جو عوام الناس ہیں نے رد کر دیا ہے اور دن بدن ان کے اندر یہ احساس بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ حقیقت میں اسلام کی حقیقی اور سچی نمائندہ اور اسلام کی طرف سے بات کرنے کا حق رکھنے والی جماعت ، جماعت احمدیہ ہی ہے۔اس لئے یہ کوشش تو بہر حال بہت ہی ذلیل اور کمپنی کوشش تھی اور بہت ہی بھیا نک کوشش تھی، بہت ہی خطرناک مضمرات رکھنے والی کوشش تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کے ساتھ جماعت احمدیہ نے اس کو بالکل نامراد کر دیا ہے۔یہاں تک کہ ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک ملاں جو احمدیت کی مخالفت میں سب سے زیادہ منہ پھٹ ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے پاکستان ہی میں بہت ہی ہر طرف سے ذلیل ورسوا بھی کیا لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آتے اور ابھی ان کی آنکھیں نہیں کھلیں۔حال میں ہی وہ باہر کے ملکوں کا دورہ کر کے گئے ہیں۔زبان وہی گندی ہے جو پہلے استعمال کیا کرتے تھے اور وہی اشتعال انگیزی جو وہ پہلے کیا کرتے تھے۔لیکن کچھ نئے انکشاف بھی ان کو کرنے پڑے انہوں نے جا کر یہ بتایا کہ آپ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ پچھلے چند سالوں میں جماعت احمدیہ کس تیزی کے ساتھ ترقی کے ہر میدان میں آگے بڑھ چکی ہے۔حیرت انگیز ہے ان کی ترقی آنکھیں چندھیا دینے والی۔یہ اقرار خدا تعالیٰ نے ان سے کروا کے چھوڑا اور اس کی سب سے زیادہ ذلت اور نا مرادی اس اقرار میں ہے دراصل۔اس مولوی کی طرح باقی لوگوں نے بھی گالیاں