خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 816
خطبات طاہر جلد ۵ 816 خطبه جمعه ۱۲ار دسمبر ۱۹۸۶ء قربانی کے لئے تیار رہیں گے اور ہم میں سے جو پاکستانی ہیں وہ اسلام کے بعد اپنے وطن کی خاطر بھی ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے۔اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی راہ عمل دکھائی اور بجھائی اس کے ہر پہلو پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے انشاء اللہ۔اس وقت جو میں نے یہ کہا ہے کہ آخری منطقی نقطہ عروج کی طرف آگے بڑھ رہی ہے تو اس سے مراد خاص طور پر اس سازش کا وہ حصہ ہے جو جماعت احمدیہ سے متعلق ہے۔جماعت احمدیہ کے متعلق تمام دنیا کی اسلام دشمن طاقتیں بخوبی واقف ہیں اور اس بات کا برملا اظہار بھی کر چکی ہیں کہ سب سے زیادہ وفادار، اسلام کا دفاع کرنے والی جماعت ، جماعت احمد یہ ہے۔اور سب سے زیادہ وطن سے محبت رکھنے والی جماعت ، جماعت احمد یہ ہے۔یہاں حال ہی میں جو بعض مذہبی جنونیوں نے فساد کی کوشش کی اس ضمن میں جو ہم نے جوابی کارروائیاں شروع کیں اور لوگوں کو عقل دینے اور سمجھانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ایک عیسائی چرچ نے جس کا سب سے زیادہ یہاں اثر ہے کھلم کھلا جماعت کے خلاف ان مولویوں کے حق میں بیانات جاری کئے جو فساد پیدا کرنا چاہتے تھے اور ایسے سرکلر ان کی طرف سے جاری ہوئے جن میں چرچ کو متنبہ کیا گیا کہ ہماری ساری دنیا میں سب سے بڑی دشمن جماعت احمد یہ ہے اور سب سے زیادہ خطرہ ہمارے چرچ کو یا عیسائیت کو جماعت احمدیہ سے ہے۔تو اس سازش کا مرکزی نقطہ یہ ہے اور ہمیشہ سے رہا ہے کہ پاکستان میں جس حد تک ممکن ہو سکے جماعت احمدیہ کو نیست و نابود کیا جائے کیونکہ سب سے زیادہ دنیا میں مضبوط اور فعال جماعت پاکستان میں پائی جاتی ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یعنی ان معنوں میں کہ یہاں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے اور اس پہلو سے پاکستان میں جماعت احمدیہ کو کام کرنے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا ہو چکا ہے کہ جس کے نتیجہ میں ساری دنیا جماعت احمدیہ کو اسلام کا نمائندہ سمجھنے کا حق رکھتی ہے اور رجحان رکھتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اسلامی مملکتوں میں سے ایک عظیم ترین مملکت ہے۔وہاں ایک گہری بنیا د رکھنے والی اور دن بدن بڑھنے والی جماعت جب اسلام کا پیغام لے کر دنیا میں نکلتی ہے تو لازماً یہی اسلام کا نمائندہ ہوگی۔یہ تجزیہ کرنے کے بعد انہوں نے دوسرا عقلی تجزیہ یہ کیا کہ اگر پاکستان ہی سے احمدیت کی بنیادیں اس طرح اکھیڑی جائیں کہ اول حکومت پاکستان یہ اعلان