خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 813
خطبات طاہر جلد۵ 813 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں۔مکرم عطاء الحق صاحب رامہ دارالرحمت وسطی ربوہ کے تھے اور ظفر محمود وڑائچ صاحب یہ چک 78 سرگودھا کے تھے۔یہ دونوں بڑے مخلص نوجوان اور تبلیغ میں پیش پیش۔ان کی رپورٹیں براہ راست مجھے آتی رہتی تھیں خطوں کی صورت میں۔بہر حال مرضی مولا جو بھی ہے ہم اس پر راضی ہیں۔دوسرا مکرمہ زینب بیگم صاحبہ بنت مکرم و محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ان کی اچانک وفات کی میر پور خاص سندھ سے اطلاع ملی ہے۔ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کا ایک خاص مقام تھا صحابی ہونے کے لحاظ سے تو تھا ہی اس کے علاوہ بھی ان کو ساری عمر حضرت مصلح موعود کی بڑی خدمت کی توفیق ملی ہے اور بڑی قربانیوں کے ساتھ اور بڑی وفا کے ساتھ انہوں نے خدمت کی ہے اس لئے جماعت پر ان کی اولاد کا خصوصیت سے حق ہے۔ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک بیان ہے وہ دلچسپ ہے ہو سکتا ہے سارے اس بیان کو نہ مانیں مگر ان کا جو تاثر ہے وہ بڑے یقین کی حد تک تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو الہام ہوا تھا اطعموا الجائع والمعتر ( تذکرہ: ۶۳۱) وہ الہام آپ کہا کرتے تھے کہ میرے متعلق ہوا تھا اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل ہو گئے۔کہتے تھے کہ میں آیا تھا، ذرا دیر سے پہنچا تھا اور مجھے شدید بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانا ختم ہو گیا تھا لنگر میں اور میں نے صبر کیا لیکن ساتھ ہی یہ دعا بھی کی کہ اے خدا! میرا انتظام کر اور اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا اطعموا الجائع و المعتر کہ جو بھوکے ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہیں ان کو کھانا کھلا ! چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے (رات کو بارہ بجے کے قریب یا آدھی رات کو جو بھی وقت تھا ) اسی وقت اعلان عام کروا دیا کہ جو جو بھوکا ہے وہ آ جائے اور اسی وقت لنگر کھلوا دیا۔چند آدمی ایسے تھے جن میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بھی شامل تھے اور یہ ہمیشہ بڑے خاص فخر کے ساتھ اور جائز نیکی کے فخر کے ساتھ ، ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میرا ذکر الہام میں موجود ہے۔اس کے علاوہ بھی کچھ وفات کی اطلاعیں ہیں چوہدری عبید اللہ صاحب سیکرٹری صنعت و تجارت ضلع راجن پور۔یہ بھی بڑے مخلص دوست تھے جماعت کے کارکن ،ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہوئے۔چوہدری حاکم علی صاحب ورک آف چک نمبر 261 بہاولنگر۔