خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد ۵ 799 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء سینوں سے اسلام نوچ نہیں سکے ، اسی طرح حب وطن بھی آپ کے ایمان کا حصہ ہے۔یہ پوری کوشش کر رہے ہیں اس وطن کو مٹانے کی آپ اس راہ میں کھڑے ہو جا ئیں اور نہ مٹنے دیں اور حب الوطنی کے گیت گائیں اور ساری قوم کو بھی سمجھائیں کہ ان لوگوں کی بداعمالیوں کے نتیجہ میں جو چند دنوں ، چند مہینوں ، چند سالوں کا قصہ باقی ہے، ان کی کے نتیجہ میں اپنے پاؤں پر کیوں کلہاڑی مارتے ہو۔اس لئے اپنے حب الوطن کو زخمی نہ ہونے دو ، ساری قوم ایک ہو جائے اور وطن کی محبت میں ایک آواز کے ساتھ اٹھنا اور ایک آواز کے ساتھ بیٹھنا سیکھیں۔یہ باتیں ترک کر دیں کہ فلاں صوبہ فلاں صوبے کے مخالف ہے فلاں صوبہ فلاں صوبے کے مخالف ہے۔یہ بد خیالات یہ منحوس خیالات قوموں کی تباہی پر منتج ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کو یہ بھی جہاد کرنا چاہئے کہ پاکستان میں حب الوطن کے احساس کو نمایاں کریں اور بیدار کریں اور زخمی نہ ہونے دیں، جو زخمی ہو چکا ہے اسے مندمل کرنے کی کوشش کریں۔ہر قسم کے ایسے خیالات یا ایسے ازم یا ایسے تصورات جو پاکستان کو کسی طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں ، ان کے خلاف کوشش کرنا بھی جماعت احمدیہ کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی تعداد میں جماعت موجود ہے کہ اگر وہ سرگوشیاں بھی شروع کرے کہ اٹھو اور ملک کی خاطر ایک ہو جاؤ اور ملک پر آنچ لانے والی ہر طاقت کو مقابلہ کرو تو اس کا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نیک اثر ظاہر ہوسکتا ہے۔اگر دعا ئیں اس کوشش کو تقویت دیں تو پھر یقیناً انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی نصیب ہوگی اور میں امید رکھتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے کیونکہ آخر اسلام کے نام پر لیا ضرور گیا تھا۔عمل مخالف ہو چکے ہوں یا نہ ہوں اس سے بحث نہیں ایک ملک ہے آج کے زمانے میں جو اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا اور کونسا ملک ہے دکھا ئیں جو صرف اسلام کے نام پر بنایا گیا ہو؟ اس لئے اس مقدس نام سے پیار اور محبت ہے تو پھر ہر دنیا کے احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے۔