خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد ۵ 797 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء بوجھ رکھا گیا تو وہ خود بھی گرے اور اس پاکیزہ عمارت کو بھی لے گرے۔“ اب کیا ارادے ہیں مودودیت کے پھر ؟ اب کیا زعم لے کر اٹھی ہے؟ اب کیوں سازشوں اور چالبازیوں کے ذریعہ موجودہ حکمرانوں کے ساتھ مل کر اسلام کے نام پر ملک پر قبضہ کر کے کچھ کرنا چاہتی ہے؟ اگر سو سال پہلے بہت زیادہ متقی لوگوں کا یہ تجربہ اگر مولانا مودودی کے بیان کو مانا جائے تو ایسے صوبے میں ناکام ہوا جہاں اسلام پر عمل درآمد کا معیار آج بھی سب دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے اور سو سال پہلے آج کے اس صوبے سے بھی بہت زیادہ اونچا تھا یعنی آج جو صوبہ سرحد کا مسلمان ہے اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں سو سال پہلے کے صوبہ سرحد کے مسلمان سے۔ان کے ماں باپ کا تقویٰ بھی آج ان موجودہ نسلوں کے تقویٰ سے بلند تر تھا، وہ تو دادے پڑ دادے تھے ان کے اور بڑے خالص ایمان کے ساتھ اسلام پر عمل درآمد کرنے والے لوگ تھے۔اگر مولانا مودودی کا یہ تجزیہ درست ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کچھ ہوا ضرور ایسا ہے کہ زبردستی یہ لوگ مسلمان نہیں بن سکے تو پھر آج کے یہ لوگ تو آج کے مولانا مودودی کے شاگرد ( حضرت سید احمد صاحب شہید کے شاگرد نہیں مودودی صاحب کے شاگرد ) اور ان کے شاگردوں کے شاگرد کسی جبر کے ذریعہ کسی قوم کو مسلمان بنا دیں گے؟ یہ تو جنت الحمقاء میں بسنے والی بات ہے۔وہم و گمان بھی اس کا چھوڑ دیجئے۔لیکن ان کا محاسبہ اس بات پر ہونا چاہئے اور قوم کو کرنا چاہئے کہ یہ پڑھنے کے باوجود مودودی صاحب کا یہ تجزیہ کہ اس پاکیزہ عمارت کو بھی لے گرے“ جو کچھ پاکستان کا باقی رکھا ہے کیوں اس کولے گرنے پر تیار بیٹھے ہو، کیوں بار بار کے تجربوں کی ناکامی سے فائدہ نہیں اٹھار ہے؟ پھر مودودی صاحب فرماتے ہیں: تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آئندہ ہر تجدیدی تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔“ مجدد کا دعوی اس طرح تو نہیں کیا لیکن اپنی تحریک کو تجدیدی تحریک کہا اور لوگوں کو تحریص کی کہ ان سے وہ کہیں کہ ہاں آپ نے یہ تحریک چلائی آپ مجد دوقت ہیں۔فرماتے ہیں: ہر تجدیدی تحریک کوملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ جس سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت ، اخلاق