خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 796
خطبات طاہر جلد ۵ 796 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء اس صورت حال کا اس دور کے ساتھ ذرا موازنہ تو کر کے دیکھیں۔وہاں تو تھوڑ اسا ملک قابو آیا تھا لیکن متقی لوگوں کے قابو آیا تھا مولانا مودودی فرمارہے ہیں کہ اس تھوڑے سے حصے میں بھی جہاں اسلام پر عمل درآمد کا معیار آج سے بہت زیادہ اونچا تھا اور اس وقت بھی سارے ہندوستان میں سب سے زیادہ اونچا تھا، وہ متقی فرمانروا بھی نا کام ہو گئے اور اسلام نافذ کرنے کی جو کوشش انہوں نے شروع کی اس میں وہ کلیہ ناکام رہے اور بالآخر اس کا ایک نہایت ہی خوفناک اور ہولناک نتیجہ نکلا۔آج کا حکمران ایک تھوڑے حصے پر نہیں سارے ملک پر قابض ہے اسلام کے نام پر اور سارے ملک پر قابض وہ لوگ ہیں جو تقویٰ میں سید احمد صاحب شہید کی جوتیوں کی خاک کے برابر بھی نہیں بلکہ حضرت سید احمد صاحب شہید اور سید اسماعیل صاحب شہید کی جوتیوں کی خاک سے موازنہ کرنا بھی ان کی گستاخی بن جاتا ہے۔وہ نافذ کرنے لگے ہیں اسلام کے نام پر دیانت جو دیانت سے نا آشنا ہیں۔وہ تقویٰ زبردستی دلوں میں داخل کرنا چاہتے ہیں جو تقویٰ کے نام سے ہی ناواقف ہیں، یہ چیز ہوتی کیا ہے۔اس کا کوئی تصور ہی نہیں ان کے دلوں میں کوئی نہیں۔جتنی ملک میں الاٹمنٹس ہوئی ہیں حکمرانون کی طرف سے، جتنی خورد برد ہوئی ہے جتنی رشوت بڑھی ہے، جتنی عدالتیں قائم ہوئیں اور اس کے فیصلے ہوئے ، یہ باتیں تفصیل سے دہرانا میرا کام تو نہیں ہے لیکن ساری قوم جانتی ہے، بچہ بچہ قوم کا جانتا ہے۔جن کی ساری عمر کی تنخواہیں اگر اکٹھی کر لی جاتیں اور ایک آنہ بھی اس میں سے خرچ نہ کیا جاتا تو بمشکل ایک چھوٹی سی کوٹھی بنتی اس سے۔ان کے اپنے اخراجات بھی شاہانہ رہے اور محلات قائم ہو گئے، ایک سے زائد محلات قائم ہو گئے۔ان لوگوں کے ہاتھوں میں اسلام کا نفاذ تھا۔اب۔ان حضرت سید احمد صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ان کا کوئی مقابلہ ہوسکتا ہے بھلا؟ لیکن مولانا مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ جب اسلام کا معیار بہت بلند تھا اور اُس صوبہ میں جہاں سب سے زیادہ بلند تھا وہاں ایسی عظیم ہستی نے جس کو کروڑوں مسلمان اپنے وقت کا مجد د مانتے ہیں، اس نے بھی زبر دستی اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی تو وہ نا کام ہو گیا : بالآخر تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ نام کے مسلمان کو اصلی مسلمان سمجھنا اور ان سے وہ تو قعات رکھنا جو اصلی مسلمان ہی سے پوری ہوسکتی ہیں محض ایک دھوکا تھا۔وہ خلافت کا بوجھ سہارنے کی طاقت نہ رکھتے تھے جب ان پر یہ