خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 795
خطبات طاہر جلد ۵ 795 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء زیادہ تر علماء دین میں سے ان کے دو ساتھی ہیں۔ایک جماعت اسلامی اور ایک دیو بندی علماء اور اہل حدیث اور ان کے متعلق ج کہ کیوں وہ ساتھی ہیں، اس کا پس منظر کیا ہے اس میں میں نہیں جانا چاہتا لیکن عام سیاستدانوں کا بھی اور عام دوسرے علماء کا بھی اندازہ یہ ہے کہ دیو بندیوں کی حیثیت ثانوی ہے اس میں ، ان کو صرف احمدیوں پر استعمال کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔درحقیقت یہ سازش ہے حکومت کو مود و دیوں کے قبضہ میں دینے کی اور ایک زبر دستی کا اسلام جو نافذ کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے اس میں بالآخر مود و دیوں کو اوپر لانے کا پروگرام ہے۔اب شریعت بل کی بحثوں میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے۔اس قسم کے اسلام کے متعلق مودودی صاحب کا اپنا کیا خیال تھا وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مودودی صاحب فرماتے ہیں، حضرت سید محمد اسمعیل صاحب شہید اور سید احمد صاحب بریلوی شہید کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے یعنی دونوں بزرگوں نے جو انقلاب لانے کی کوشش کی اسے ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے مولانا مودودی ان کے حالات کا ، ان کی ناکامی کا تجزیہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : دونوں لیڈ رغالبا اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ سرحد کے لوگ چونکہ مسلمان ہیں اور غیر مسلم اقتدار کے ستائے ہوئے بھی ہیں اس لئے وہ اسلامی 66 حکومت کا خیر مقدم کریں گے۔“ یہ آج سے سو سال سے زائد عرصہ سے پہلے سرحد کے مسلمانوں کا تجزیہ ہورہا ہے اور ان کے اسلام کا تجزیہ ہورہا ہے۔مولانا فرماتے ہیں کہ ان کو یہ غلط فہمی ہو گئی تھی حضرت سید احمد صاحب شہید کو اور حضرت سید اسماعیل صاحب شہید کو کہ شاید یہ لوگ مسلمان نظر آ رہے ہیں مسلمان ہی ہوں یعنی وہ دیو بندی جتنے بھی تھے ان کے متعلق یہ مولانا مودودی کا فتویٰ ہے کہ دیکھنے میں مسلمان نظر آرہے تھے۔ان بزرگوں نے بیچاروں نے سمجھ لیا کہ شاید سچ مچ ہی مسلمان ہیں پھر غیروں کے اقتدار کے ستائے ہوئے بھی تھے اس لئے وہ اسلامی حکومت کا خیر مقدم کریں گے۔اس وجہ سے انہوں نے جاتے ہی وہاں جہاد شروع کر دیا اور جتنا ملک قابو میں آیا اس پر اسلامی خلافت قائم کر دی۔“