خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد ۵ 794 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء ہے کہ پاکستان میں امن و امان قائم کریں۔تو <mark>اس</mark> کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ تو سی<mark>اس</mark>ی لوگ ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔یہ جو اپنا دین ایمان بیچنے والے سی<mark>اس</mark>تدان ہیں، <mark>اس</mark>لام کے بھی دشمن ہیں اور ملک وقوم کے بھی دشمن ہیں اور پاکستان کے دشمن یہ وہ کروا ر ہے ہیں۔ایک موقع پر سوال یہ کیا گیا کہ یہ جو ڈا کے پڑ رہے ہیں صاف بتاتا ہے کہ آپ لوگ ہر دلعزیز نہیں رہے اور سی<mark>اس</mark>ی اظہار ہے بے چینی کا۔جس قوم میں سی<mark>اس</mark>ی طور پر امن وامان ہو یا تسکین پائی جائے ، جہاں سی<mark>اس</mark>ت سچی ہو اور عوام کی جڑوں سے اٹھ رہی ہو وہاں <mark>اس</mark> قسم کی بدامنی کی حالت نہیں ہوتی۔تو <mark>اس</mark> کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ تو سی<mark>اس</mark>ت ہے ہی نہیں ، <mark>اس</mark> میں سی<mark>اس</mark>ی لوگوں کا کیا دخل یہ تو خالص ڈاکو ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں۔ایک پہلو سے وہ ڈاکو سی<mark>اس</mark>تدان بن جاتے ہیں، ایک پہلو سے وہ سی<mark>اس</mark>تدان ڈاکو بن جاتے ہیں۔غرضیکہ صرف زبانی عذر تراشیاں ہیں جس کے ذریعہ یہ اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سارا ملک <mark>اس</mark> منحوس سائے کے نیچے گندا ہو چکا ہے اور گندا ہوتا چلا جا رہا ہے۔بعض لوگ جو ابھی پاکستان سے ہو کر آئے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ اب تو اگر سی<mark>اس</mark>ت کی بات کریں تو لوگ کہتے ہیں چھوڑ دوسی<mark>اس</mark>ت کی بات۔ہم نے رہنا ہے کہ نہیں رہنا ان حالات میں ہمارا کیا بنے گا ؟ ہمارے بچوں کی حفاظت، ہماری بچیوں کی حفاظت، اب یہ سوال اٹھ چکا ہے۔کوئی تعلیم ہوگی بھی کہ نہیں <mark>اس</mark> ملک میں اب۔انسانی شرافتیں اور اخلاقی قدریں باقی رہیں گی کہنہیں۔<mark>اس</mark> وقت تو ہم یہ سوچ رہے ہیں۔تجارتیں چلیں گی <mark>اس</mark>ی طرح یا انار کی کا شکار ہو جائیں گی۔ہر طرف بدامنی بڑھتی چلی جارہی ہے اور لوگوں میں اب عدم تحفظ کا اتنا زیادہ پیدا ہو چکا ہے کہ باقی سارے مسائل <mark>اس</mark> کے نیچے دب گئے ہیں۔تو جس چیز کو مثبت سمجھ کر انہوں نے جبر نافذ کرنے کی کوشش کی <mark>اس</mark> میں بھی کلیہ ناکام ہیں اور جس چیز کو نفی پہلو سے انہوں نے <mark>اس</mark>لام کے نام پر جبر انا فذ کرنے کی کوشش کی <mark>اس</mark> میں بھی کلیہ ناکام ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے <mark>اس</mark> دور میں احمدیوں کا دیانت کا معیار بھی بڑھا، امن پسندی کا معیار بھی بڑھا ، جرائم سے بچنے کا معیار بھی بڑھا اور نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر زیادہ مضبوطی سے قدم مارنے کا معیار بھی بڑھا۔تو دونوں صورتوں میں یہ کلیہ نہ صرف نا کام ہو چکے ہیں بلکہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں کوئی حکومت بھی اپنے دعووں میں <mark>اس</mark> بُری طرح ناکام نہیں ہوئی جتنا یہ مزعومہ طور پر یا مبینہ طور پر <mark>اس</mark>لام کے نام پر قائم ہونے والی آمریت ناکام ہوئی ہے۔