خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد ۵ 789 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء میں بعض جگہ بڑی مشکلات پیدا ہوئیں۔ایک کچہری میں ایک احمدی نے چھوٹے افسروں میں سے بعضوں کو کلمہ پیش کیا اور انہوں نے اپنی نادانی میں یہ سمجھا کہ کلمہ لگانے میں کیا حرج ہے انہوں نے لے کر لگالیا۔Mobbing ہوئی ان کے اوپر ، ان کے افسروں نے ان کی جواب طلبیاں کیں تو بڑی سختی کے دن آگئے۔اگلی دفعہ جب عدالت میں وہی احمدی پیش ہوئے اور انہوں نے پھر آگے بڑھ کر کلمہ پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ معاف رکھو ہمیں کافی ہوگئی جو ہم سے ہوئی تھی۔اب نہ دوبارہ کلمہ ہمارے سامنے لے کر آنا۔تو جن سے کلمہ چھیننا چاہتے تھے ان کو تو کلمہ سے محبت اتنی گہری پیدا ہو گئی تھی تو پہلے ہی لیکن اور زیادہ ابھر گئی جس طرح بچہ بیمار ہو تو ماں کو پتہ چلتا ہے کہ مجھے اس سے کتنی محبت تھی کتنا پیار تھا۔احمدیوں کو معلوم ہو گیا، اُن کا شعور بیدار ہو گیا ، ان کے دل میں جو کلمہ کا عشق تھا اس نے جوش مارنا شروع کیا اور ابھر نے لگا۔آنکھوں سے برساوہ ، خون بن کر ان کے جسموں سے نکلا لیکن جس چیز کو دبانے کی کوشش کی گئی وہ پوری قوت کے ساتھ اور زیادہ ابھری اور بُری طرح یہ حکومت احمدیوں سے کلمہ چھیننے میں ناکام ہو چکی ہے۔یہاں تک مثالیں ہیں قربانیوں کی ، ایک لمبی داستان ہے۔سب سے زیادہ احمدی پاکستان میں جیل میں کلمہ لگانے اور کلمہ سے پیار کرنے کے جرم میں گئے۔سینکڑوں گئے ہیں اور بار بار گئے ہیں اور کوئی پیچھے نہیں ہٹا۔بعض جگہ بعض اضلاع میں جب یہ تحریک عام ہونے لگی تو ضلعی حکام نے زبر دستی حکومت کے منشاء کو ٹالتے ہوئے اس بات کو روک دیا کہ اب ان کو مزید نہیں پکڑا جائے گا کیونکہ وہ کہتے تھے ہمیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔اس کثرت سے احمدی ہیں بعض اضلاع میں کہ ان کی جیلوں سے اگر سارے مجرم نکال دیئے جاتے سوائے کلمے کے مجرموں کے تب بھی وہ جیلیں ان کو سنبھال نہیں سکتی تھیں اور چونکہ ساتھ ساتھ دوسرا جرم بھی بڑھتا جا رہا ہے۔اس لئے اب عدلیہ کے لئے بھی اور انتظامیہ کے لئے بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کلمہ کے مجرموں کو پہلے رکھا جائے جیلوں میں یا دوسرے مجرموں کو رکھا جائے۔قاتلوں ، زانیوں ، شرابیوں اور دھوکے بازوں ان کے لئے جیل میں جگہ بنائی جائے یا کلمہ والوں کے لئے جگہ بنائی جائے۔لیکن اگر وہ کلمہ والوں کے لئے صرف بناتے تب بھی ممکن نہیں تھا کہ جیلیں ان کو سما سکتیں۔اس لئے بعض اضلاع میں با قاعدہ ایک پالیسی کے طور پر خواہ وہ پالیسی اوپر سے منظور شدہ ہو یا نہ ہو اس سے قطع نظر، مقامی اضلاع کے حکام نے عقل۔