خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 783

خطبات طاہر جلد ۵ 783 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء پاکستان میں جبری دین نافذ کرنے اور جبری دین سے روکنے کی ناکام کوشش ( خطبه جمعه فرموده ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقره: ۲۵۷) اور پھر فرمایا : قرآن کریم کی یہ آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ان آیات میں سے ہے جو خصوصاً اس زمانے میں دنیا میں غیر معمولی شہرت پاگئی ہیں یعنی ان معنوں میں کہ وہ لوگ جن کو قرآن کا علم بھی نہیں ان کے کانوں تک بھی اس آیت کی آواز پہنچی ہے خواہ مثبت رنگ میں ہو خواہ منفی رنگ میں ہو۔ دین اور جبران دونوں کا کیا تعلق ہے اس مضمون پر یہ آیت روشنی ڈال رہی ہے اور اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے بعض لوگ دین میں جبر کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، خواہ کسی رنگ میں محدود رنگ ہی میں کیوں نہ ہو اور اسی آیت سے بعض لوگ دین میں جبر کے ہر قسم کے دخل کو نا جائز قرار دینے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جماعت احمد یہ اس آیت کو اپنے وسیع ترین معانی میں کلیہ تسلیم کرتی ہے اور حد امکان تک اس لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کا اثر جہاں جہاں پہنچتا ہے وہاں