خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد۵ 775 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء لَوْا مَنَ کہ کاش وہ ایمان لے آتا۔تو محض اہل کتاب کہلا نا یا کسی الہی تعلیم کی طرف منسوب ہو جانا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ کوئی خدا پر ایمان لاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والے میں سچی ہمدری پائی بنی نوع کی جانی ضروری ہے۔خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والے میں امر بالمعروف کی صفت پائی جانی چاہئے۔وہ لازماً اچھی باتوں کی طرف بنی نوع انسان کو بلاتا ہے اور یہ ہرگز انتظار نہیں کرتا کہ اس کے گروہ میں شامل ہوں تب ان کو بلائے اور بدیوں سے روکتا ہے۔یہ دعوت الی اللہ کے لئے پہلا بنیادی ایک طریق ہے جو قرآن کریم سمجھا رہا ہے اور بہت سی جگہ احمدی داعین الی اللہ اس طریق کو اختیار نہ کر کے بہت نقصان اٹھا رہے ہیں۔پاکستان کے حالات دیکھ لیجئے جولوگ وہاں سے آتے ہیں بتاتے ہیں کہ اس قد را خلاقی گراوٹ تیزی سے پیدا ہورہی ہے کہ کوئی انسانی زندگی کی دلچسپی کا ایسا حصہ نہیں، کوئی ایسا دائرہ نہیں رہا جہاں تیزی کے ساتھ بدیاں گھر نہ کر رہی ہوں اور رچ نہ گئی ہوں اندر ہر قسم کی اخلاقی قدریں اٹھ رہی ہیں۔جھوٹ ، چوری، دغابازی،ڈاکہ، فساد، ایک دوسرے پر ظلم وستم۔ہر قسم کی انسانی قدریں جو آپ سوچ سکتے ہیں، امانت ہے، دیانت ہے وہ غائب اور ہر قسم کی برائیاں داخل ہو رہی ہیں اور نہایت ہی تکلیف دہ حالت ہے۔وہاں جماعت احمد یہ اگر ان کو صرف جماعت احمدیہ کے دعوی کی طرف بلائے تو یہ ہرگز کافی نہیں ہے کیونکہ یہ امر واقعہ یہ ہے کہ جو شخص بعض انسانی قدروں کو کچلنے والا بن جاتا ہے اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور اس کو نیکی قبول کرنے کی توفیق نہیں ملتی ہے، اس کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوتی ہے۔آنحضرت علیا سے پتہ چلتا ہے کہ بعض عام نیکیوں کے نتیجہ میں مثلاً جانوروں کے رحم کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کسی گم کردہ راہ کو ہدایت عطا فرما دی۔تو نیکیاں نیکیوں کے بچے پیدا کرتی ہیں اور بدیاں بدیوں کے بچے پیدا کرتی ہیں اس لئے اگر آپ سوسائٹی کو کسی اعلیٰ مقصد کی طرف اعلی پیغام کی طرف بلانا چاہتے ہیں تو اس دعوت کا آغاز ان بنیادی انسانی قدروں سے ہونا چاہئے۔جو سوسائٹی انسانیت کے معیار سے گر رہی ہے اسے روحانیت کی طرف آپ کیسے لا سکتے ہیں جب تک وہ انسانیت کی پہلی منزل پر قدم نہ رکھے اس سیڑھی کو پھلانگ کر گزر نہیں سکتی وہ قوم اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار ( در شین : ۱۳۷)