خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 773 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 773

خطبات طاہر جلد ۵ 773 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء روکتے ہیں لیکن خدا پر ایمان نہیں لاتے دوسرے وہ لوگ جن میں یہ صفات پائی جاتی ہیں لیکن خدا پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان لانا بہتر ہونے کے لئے ایک لازمی شرط قرار دے دی ہے۔اس پر اگر آپ غور کریں تو اس میں آپ کو بہت ہی گہری حکمتیں نظر آئیں گی کہ کیوں یہ کافی قرار نہیں دیا کہ تم لوگوں کی خدمت کرتے ہو، لوگوں کو اچھی باتوں کی طرف بلاتے ہو، برائیوں سے روکتے ہو یہی کافی ہے فرمایا نہیں۔خیر ہونے کے لئے ایک اور شرط بھی ہے کہ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ۔اس وقت اس کی تفصیل کا موقع نہیں۔جب اشتراکیت کی تعلیم کا اسلام کی تعلیم سے موزانہ کیا جائے گا جب بھی کیا جائے اس وقت یہ مضمون آپ کو کام دے گا، اس وقت یہ آیت ایک حیرت انگیز اور لطیف تجزیے کی طرف اشارہ کرے گی۔ان کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اور مومنوں کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ایک نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ فرق صرف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ایک دعویٰ کے علمبر دار خدا کے قائل ہیں اور ایک دعوی کے علمبر دار خدا کے قائل نہیں ہیں۔یہ بیان کرنے کے بعد فرمایاوَلَوْ أَمَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ کاش اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔اب یہ عجیب اچنبھا ہے کہ ایک طرف اہل کتاب کہا جارہا ہے دوسری طرف فرمایا جارہا ہے کاش وہ ایمان لے آتے اگر وہ ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور ایمان کون سا تُؤْمِنُونَ بِاللہ کا پہلے ذکر ہے۔یہاں کسی رسول پر ایمان لانے کا ذکر ہی نہیں چل رہا ہے۔تُؤْمِنُونَ بِاللہ کہنے کے بعد اہل کتاب کو یہ کہنا کہ کاش وہ ایمان لے آتے اس کا کیا موقع ہے اور کیا تعلق ہے پچھلے مضمون سے؟ اس کا تعلق یہ ہے کہ اہل کتاب ہونا کسی کتاب کی طرف منسوب ہونا کافی نہیں اگر کوئی کتاب کی طرف منسوب ہوتا ہے الہی کتب کی طرف منسوب ہوتا ہے اور واقعہ اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اس میں یہ پہلی خوبیاں ہونی چاہئیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ حقیقہ کوئی کسی کتاب کی طرف منسوب ہواس کی تعلیم پر چلنے کا دعوی کرے اور واقعہ اللہ پر ایمان لاتا ہو اور ان تین خوبیوں سے محروم ہو جو بیان فرمائی گئی ہیں أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ یہ کہ کر فرما دیا گیا کہ اہل کتاب میں یہ خوبیاں نہیں پائی جاتیں اور اس کی تفصیل کئی جگہ پہلے بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر آچکی ہے اور احادیث میں بھی اس کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے کہ پہلی قو میں کیوں ہلاک