خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد۵ 772 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء ہیں جو انسانیت سکھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان سے بچا جائے۔لیکن اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ دو بنیادی باتیں نہ ہوں یعنی معروف بات کی ہدایت کرنا اور منکر سے روکنا تو اگلا رنگ جو مذہب کا رنگ ہے اس کے لئے بنیادی طور پر زمین تیار نہیں ہوسکتی ہے۔باوجود اس کے کہ مذہب بنیادی اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور معروف کی اعلیٰ چیزیں بیان کرتا ہے اور منکر میں سے ایسی تعلیم ، ایسی باتیں بھی آپ کے سامنے رکھتا ہے بچنے کے لئے جو برائی کے طور پر عام انسانی نظر سے اوجھل رہتی ہیں جو ان کے نزدیک برائی نہیں ہوتی لیکن یہ چیزیں تب ایک سوسائٹی کو قبول ہوتی ہیں تب ایک سوسائٹی ان باتوں کو قبول کرنے کی اہل بنتی ہے جب معروف پر قائم ہو جائے اور منکر سے بچنے لگ جائے اور کوئی مذہب اپنی تبلیغ میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہے جب تک پہلے جہاں سے آغاز ہے وہاں سے آغاز نہ کرے دوسری منزل پر آپ چھلانگ لگا کر نہیں چڑھ سکیں گے۔ضروری ہے کہ جہاں سیٹرھیوں کا پہلا قدم ہے وہاں سے قدم رکھیں اور قرآن کریم نے یہ قدم خود بیان فرما دیئے ہیں۔آغاز کس طرح ہوگا مذہب کا اس لڑائی میں دعویٰ کرنے کے بعد کہ ہم سب سے بہتر ہیں یا خدا نے ہمیں بہترقرار دیا ہے۔کیا کیا صفات تمہیں فوراد کھانی پڑیں گی ان کے بغیر تم اگلا قدم اٹھا نہیں سکو گے۔وہ یہ ہیں کہ تم وقف ہو بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے اپنے اندر یہ جذبہ بیدار رکھو ہمیشہ باشعور طور پر اس احساس کو زندہ رکھو کہ ہم بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے ہیں ہم سے خیر پہنچنی چاہئے اور خیر پہنچانے میں سب سے اہم چیز ہے امر بالمعروف نیکی کی تعلیم دینا نہی عن المنکر ، برائیوں سے روکنا اور بعد میں فرمایا تو مِنونَ بِالله اور تم اللہ پر ایمان لاتے ہو۔اب یہ عجیب بات ہے کہ اللہ کا ذکر جو پہلے ہونا چاہئے قرآن کریم میں ایمان باللہ سب سے پہلے آتا ہے اس کا ذکر آخر پر کیا ہے پھر ایک اور بات خاص قابل ذکر ہے کہ رسولوں کا کوئی ذکر نہیں تُؤْمِنُونَ بِاللہ کہہ کر بات چھوڑ دی ہے اور رسولوں کا کوئی ذکر نہیں فرمایا کیونکہ تُؤْمِنُونَ بِاللہ کے بعد اگر رسولوں کا ذکر ہو تو پھر تفریق پیدا ہو جاتی ہے انسانی سوسائٹی پھر مذاہب میں بٹ جاتی ہے، صرف انسانی سوسائٹی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے تُؤْمِنُونَ بِاللهِ کہہ کر کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے تم خدا کے قائل لوگ ہود ہر یہ نہیں ہو۔یعنی انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک وہ لوگ جو بظاہر نیک کاموں کی طرف بلاتے ہیں اور برائیوں سے