خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 771
خطبات طاہر جلد۵ 771 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء لئے بہتر ہو کہ تم اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ کوئی مسلمان ہو جائے، کوئی تمہارے رسول پر ایمان لے آئے تب تم اس کی بھلائی کی باتیں کرو۔اگر تمہیں فطرتا ہر انسان سے محبت اور پیار ہے اگر تمہارے دل میں ایک طبعی جوش ہے کہ تم سے غیروں کو بھلائی پہنچے۔تو اس بات کا کیوں انتظار کرتے ہو کہ وہ پہلے تمہارے اندر داخل ہو جائیں پھر ان کی بھلائی کے کام کرو۔یہ تو کوئی جدید دنیا کے سیاسی بلاک تو نہیں ہیں کہ جب تک کوئی امریکن بلاک میں نہ آ جائے امریکہ کا فیض اس کو نہ پہنچے۔جب تک کوئی روسی بلاک میں نہ آجائے روس کا فیض نہ پہنچے فرمایا کہ خیر امت ہونے کے لئے یہ لازمی شرط ہے تم خیر الناس بن جاؤ اور ہر انسان کو بلا تمیز مذہب ان بنیادی نیکیوں کی طرف بلانا شروع کر دو جو اس کی بھلائی کے لئے ، اس کی بقاء کے لئے ضروری ہیں۔وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ نیکیوں کی طرف بلاؤ اور برائیوں سے منع کرنا شروع کردو۔منکر میں بھی وہی برائیاں داخل ہیں جو تمام بنی نوع انسان کے درمیان قدر مشترک رکھتی ہیں۔پس اس تعریف کی رو سے جب آپ قرآن کریم میں معروف کا ذکر پڑھیں گے اور منکر کا ذکر پڑھیں گے اور قرآنی تعلیم کے علاوہ بھی معروف کی باتیں پڑھیں گے تو پھر سمجھ آئے گی کہ یہ کیوں فرق کیا گیا ہے۔معروف ہرانسان کی مشترک بھلائی کے تصور کو کہتے ہیں اور منکر تمام بنی نوع انسان کے مشترک بدی کے تصور کو کہتے ہیں، نا پسندیدہ چیز ، مکر وہ بات۔غلاظت ہے یہ بھی منکر میں داخل ہیں ، گلیوں میں شور کرنا ، ہمسایوں کو تنگ کرنا یہ بھی منکر میں داخل ہیں۔یہاں مسجد کے باہر آپ نکلیں اور اونچی آواز میں باتیں شروع کر دیں، ہمسائے آپ سے تنگ آنے لگ جائیں اور کبھی کبھی مجھے شکائتیں لکھنے لگ جائیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے منکر کی طرف توجہ نہیں دی منکر سے نہ خود بچے اور نہ دوسروں کو بچانے کی کوشش کی۔باتیں سنیں اور پرواہ نہیں کی اس بات کی حالانکہ محبت اور پیار سے آگے بڑھ کر ان کو بتانا چاہئے تھا کہ یہ منکر ہے۔یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے صرف خدا تمہیں پکڑے گا بلکہ یہ ایسی بات ہے جن پر ہر انسانی سوسائٹی تم کو پکڑے گی اور تم اپنے آپ کو انسانیت سے دور پھینکنے والے بن جاؤ گے۔تمہارے اندر جذب کی طاقت کم ہو جائے گی تمہارے اندر نفوذ کی طاقت کم ہو جائے گی۔تو معروف اور منکر بظاہر ابتدائی نیکیاں ہیں جو انسانیت سکھانے والی نیکیاں ہیں اور منکر وہ بدیاں