خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد ۵ 755 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء کھلم کھلا مطالبے یہ کئے جارہے ہیں کہ تم پھیلنا بند کر دو ہم تمہیں زبر دستی واپس لانا بند کر دیں گے۔ یعنی تم اتنے ہی رہو چاہے جہنم میں جاؤ ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ چاہے ہلاک ہو جاؤ ہمیں ذرا کوڑی کی تنے ہی رہو چاہے ہم میں جاؤ ہمیں کوئی پرواہ میں ہے۔ چاہے بلاک ہے جہنم میں جاؤ ہمیں کوئی پروا نہیں ہے۔ چا۔ بھی فکر نہیں ہوگی ۔ لیکن اگر پھیلو گے تو پھر ہم تمہیں سزا دیں گے، پھر تمہیں زبر دستی چھین کر اپنی طرف واپس لے کر آئیں گے۔ تو ان کی تبلیغ کا محرک حسد ہے۔ فرمایا اس کا جواب کیا ہے: فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقره: ۱۱۰) کہ اے مومنوں جن کو حسد کی بنا پر ان کی نشو و نما کو دیکھ کر جلتے ہوئے لوگ زبر دستی تلوار کے زور پر ظلم و تعدی کے ذریعہ ہوا پس اپنے دین میں کھینچ کے لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے میرا پیغام یہ ہے فَاعْفُوا وَ اصْفَحُوا ان سے اعراض کرو اور درگزر سے کام لو، ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کرو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنا فیصلہ ظاہر فرمادے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ حقیقت میں غلبہ دینا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ ایسے کمزور لوگ جن کو ہر کس و ناکس اٹھ کر مٹا دینے کے دعوی کرنے شروع کر دیتا ہے، ایسے کمزور لوگوں کا آج یہ دعویٰ کہ ہم غالب آجائیں گے محض ایک احمق کی خواب قرار دیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ اس کو نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن اگر اللہ ان کے ساتھ ہو، اگر تائید سماوی ان کو حاصل ہو ، اگر خدا کی پشت پنا ہی انھیں نصیب ہو تو پھر بات بالکل بدل جاتی ہے پھر ان کو خدا بیچ میں سے ہٹا دیتا ہے فرماتا ہے حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ تم ہٹ جاؤ بیچ میں سے فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ اچھا پھر تم راہ سے ہٹ جاؤ ، تم اس سے درگزر کرو اور ایک طرف ہو جاؤ اور انتظار کرو کہ خدا اپنے فیصلے کو صادر فرمائے گا۔ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تم کسی چیز پر قادر نہیں ہو مگر خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَآتُوا الزَّكُوةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ