خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد۵ 753 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء ہے۔تم کوتاہ دست ہو۔تم ابراھیم کی آل سے تو وہ فضل چھین نہیں سکے جل کر خاک ہو گئے مگر کچھ بگاڑ نہیں سکے۔اب تم یہ دعویٰ لے کر اٹھے ہو کہ محمد مصطفی ﷺ کی آل سے خدا کے فضلوں کو چھین لو گے۔اللہ ان فضلوں کو دینے والا ہے۔آمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا أَنهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ یہ ہے حسد کی انتہائی ماردنیا کی معمولی سے معمولی مراتب سے شروع ہوتا ہے، اموال کی تقسیم سے شروع ہوتا ہے، دنیا کی ادنی فضیلتوں کے نتیجہ میں یہ بعض دلوں میں جنم لیتا اور کس گھولنے لگتا ہے لیکن ایسی بیماری ہے جو بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ پھر آخر لوگوں کے دین پر حملہ آور ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر بھی لوگ حسد کرنے لگ جاتے ہیں اور نبوت کا انکار اس حسد کے نتیجہ میں ہوتا ہے کیسے کیسے بار یک مسائل قرآن کریم کی چند آیات ہم پر کھول دیتی ہیں اور اس فصاحت و بلاغت کے ساتھ مضمون کو بیان کرتی ہیں کہ کوئی پہلو باقی نہیں رہنے دیتیں لیکن بدقسمتی ہے کہ اس کے باوجود نقصان اٹھانے والے نقصان اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔پھر ارتداد کی جو تحریک ہے کہ زبر دستی مرتد بنایا جائے تلوار کے زور سے اس کی وجہ بھی قرآن کریم حسد ہی بیان فرماتا ہے فرماتا ہے۔نہ صرف یہ کہ انکار کرتے ہیں بلکہ تمہارے ایمان پر حملہ کریں گے اور تمہیں زبر دستی واپس اپنے میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ بڑھتے ہوئے اور پھولتے ہوئے اور پھلتے ہوئے تمہیں نہیں دیکھ سکتے۔فرمایا : وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتُبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا کہ بہت ہیں اہل کتاب میں سے جو چاہتے ہیں۔وہ ایسی خواہش کو کہتے ہیں جو محبت میں تبدیل ہوگئی ہو حد سے زیادہ خواہش غیر معمولی خواہش وَذَكَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتُبِ اہل کتاب میں سے ایک بڑا طبقہ ہے جو شدید خواہش اس بات کی رکھتا ہے لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا کہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کفار میں تبدیل کر دیں، انکار کرنے والوں میں داخل کر دیں۔حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ (البقره:۱۱۰) اس کی وجہ کیا ہے حسد ہے۔اب اس جگہ حسد کی طرف اشارہ فرما کر ایک نہایت ہی لطیف نکتہ بیان فرما دیا۔تبلیغ تو مومن بھی کرتا ہے اور منافق بھی کرتا ہے اور فاسق بھی کرتا ہے یعنی اپنے اپنے پیغام کی