خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 745
خطبات طاہر جلد۵ 745 خطبہ جمعہ ۷ نومبر ۱۹۸۶ء خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: مجھے متوجہ کیا گیا ہے کہ میں نے جرمنی بھیم اور ہالینڈ کی بجائے جرمنی چاھیئم اور فرانس کا دورہ کہہ دیا تھا یہ غلط ہے فرانس نہیں گئے تھے ہم ہالینڈ گئے تھے۔واپسی پر جس طرح مجھے جرمنی سے وہاں کے مقامی لوگوں کے کردار اور اسلام میں سنجیدگی کے پیش نظر بہت سی توقعات وابستہ ہیں انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح ہالینڈ کے متعلق بھی اتنا میں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہالینڈ نے اب تک جتنے بھی احمدی پیش کئے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت اعلیٰ معیار کے ہیں۔نہایت مخلص سلجھے ہوئے متوازن ذہن والے، انتہاء پسندی سے خالی اور بہت ہی سچے دل سے اسلام کو قبول کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر قسم کی قربانیوں میں بھی پوری طرح شامل ہیں۔ان کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرمائے ان کو کہ وہ جلد سے جلد پھیلیں اور ہالینڈ کی قوم کو ا سلام کی پُر امن آغوش میں لے آئیں۔ہالینڈ کے متعلق ضمناً ایک بات اور بیان کرنی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ یورپ کی جتنی قومیں ہیں ان میں اخلاص کے ساتھ عیسائیت کو قبول کرنے والی جیسی ہالینڈ کی قوم ہے اور کہیں ہم نے نہیں دیکھی۔ہالینڈ کے بعض ایسے خطے ہیں جہاں آج بھی وہ لوگ اپنی عیسائیت میں بچے ہیں۔عیسائیت غلط ہو تو یہ الگ مسئلہ ہے لیکن وہ لوگ عیسائیت کے ساتھ خلوص میں بچے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی پوری دیانتداری سے کوشش کرتے ہیں۔وہاں کا معاشرہ یورپ کے باقی معاشرہ سے بہت زیادہ صاف ہے اور ان لوگوں کے اخلاق بہت اچھے ہیں۔اس لئے ہالینڈ خصوصیت کے ساتھ ہمارے پیش نظر ہونا چاہئے کیونکہ اصل بات خلوص ہے اگر کوئی قوم کسی مذہب کو سچا سمجھ کر اس سے خلوص اختیار کر رہی ہے تو اس کے اندر سچائی کو قبول کرنے کا بنیادی جو ہر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ان کو بھی جلد از جلد اسلام کے دامن میں لے آئیں۔بہر حال یہ درستی کرنی تھی فرانس کی بجائے ہالینڈ کا ذکر کرنا چاہئے تھا۔دوسرا اعلان ہے کہ ہمارے ایک بہت ہی پرانے واقف زندگی مبلغ سلسلہ ( محمد حنیف یعقوب صاحب)