خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 744

خطبات طاہر جلد۵ 744 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء تھے ، صادق العمل تھے، ان کی باتوں سے آگاہ کرنا جب ان سب باتوں پر آپ نظر ڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ اتنا بڑا کام کرنے والا ہے کہ اس کے لئے مسلسل کئی سال کی محنت چاہئے ورنہ ساری دنیا کی زبانوں میں اس قسم کا لٹریچر تیار کرنا اور ایسے احمدی پیدا کرنا جو ساتھ ساتھ واقف ہوتے چلے جائیں اور زبانی ان باتوں کو آگے پھیلانے کے اہل ہوں۔بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے۔جرمنی کے چند روز کے قیام میں جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں منصوبے ڈالے وہ تو کافی وسیع ہیں ان میں سے ایک یہ ہے اور بہت سی باتیں ہیں جو وقتاً فوقتاً جماعتوں کو ہدایتوں کی صورت میں بھجوائی جاتی رہیں گی۔صرف فکر یہ ہوتی ہے کہ اگر اکٹھی زیادہ ہدایتیں دی جائیں تو ہمت بعض دفعہ ٹوٹ جاتی ہے۔آدمی سمجھتا ہے کہ اتنی باتیں میں کر ہی نہیں سکتا چلو چھوڑ دو۔اس لئے مجھے بھی بڑا صبر کرنا پڑتا ہے۔ایک وقت میں تھوڑی تھوڑی غذا دینے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ یہ ہضم ہو پھر آگے چلیں پھر آگے چلیں، تا کہ رفتار میں زیادہ تیزی آتی جائے اور رفتار تیز کرنے والی غذا ساتھ ساتھ ملتی جائے۔سر دست میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ان دو پروگراموں کو آپ جاری کرنے کی کوشش کریں، ساری دنیا کی مجالس میں جاری کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح کریں کہ جو پچھلے منصوبے تھے ان کو چھوڑ کر نہیں ان کے پہلو بہ پہلوان کو جاری کریں۔اس لئے میں بار بار اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ہمیں ٹیمیں تیار کرنی پڑیں گی ، ہمیں مختلف کاموں کے لئے سپیشلسٹ ٹیمیں تیار کرنی پڑیں گی جو پہلے منصوبے ہیں وہ بعضوں کے سپر د کریں وہ بیدار مغزی سے ان کی پیروی کرتے رہیں۔یہ منصوبہ نیا کچھ اور لوگوں کے سپر د کریں۔اس کے دو پہلو ہیں اس کے لئے الگ الگ دو کمیٹیاں بنانی پڑیں گی اور بعض دفعہ مجبوراً چھوٹے علاقوں میں خصوصیت کے ساتھ ایک شخص ایک سے زائد کمیٹیوں کا ممبر بھی ہوسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر ہر کام کی الگ الگ کمیٹیاں ہوں تو اس کو اپنی اس شخصیت کا احساس ہمیشہ پیش نظر رہے گا کہ میری ایک شخصیت یہ ہے اور ایک شخصیت وہ ہے۔اس سے اسے کام یا درکھنے میں آسانی رہے گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔خدا کی تو حید آسمانوں سے ہم نے زمین پر لانی ہے اور اس کو فرضی تو حید نہیں رہنے دینا اسے اپنے سنیوں سے چمٹانا ہے، اپنے خون میں جاری کرنا ہے۔ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھانی ہے جو موحد ہو حقیقی عمل کی دنیا میں موحد ہو صرف نظریات کی دنیا میں موحد نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرماتے۔آمین۔