خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 743
خطبات طاہر جلد۵ 743 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء سے کم سیادت کی تعلیم دی جائے یعنی کم از کم ایسی سیادت جس کے بغیر مسلمان کی تصویر مکمل نہیں ہوتی اور اس کو راہنمائی کے اصول بتائے جائیں۔اس پر جب اعتماد کیا جاتا ہے تو اس کو اپنے اعتماد کی کن پہلوؤں سے خصوصیت کے ساتھ حفاظت کرنی چاہئے۔جب اس طرف آپ آئیں گے تو نظام جماعت بھی اس کو بتانا پڑے گا۔اس کو بتانا پڑے گا کہ ہم پر تمام دنیا کے احمدی بعض آدمیوں پر مالی لحاظ سے اعتماد کرتے ہیں اور جب تک یہ اعتماد قائم رہے گا مالی نظام میں برکت رہے گی ، جب یہ اعتماد کھویا گیا تو مالی نظام ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح باقی نظام میں یہ یہ توقعات کی جاتی ہیں اور تمہیں ہم صرف ایک احمدی کے طور پر نہیں بلکہ مجلس عاملہ کے رکن کے طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں تا کہ جب تم پر یہ ذمہ داریاں ہوں تو تم اس طرح ادا کرو۔محض ایسے احمدی نہ بنو جو باہر بیٹھ کر مجلس عاملہ پر تبصرے کر رہا ہو۔بلکہ ایسے احمدی بنائیں جو وہاں بیٹھے ہوں جن پر لوگ تبصرے کرنے کی کوشش کریں اور ان کے پاس مؤثر جواب ہوں۔پھر ہر پہلو سے انکے حقوق کیا ہیں، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں ، خلافت کا نظام کیا ہے، انصار اللہ کا نظام اور خدام الاحمدیہ کا نظام یعنی ذیلی تنظیموں کا کام کیا ہے، ان سارے امور سے ان کو واقف کرانا اور پھر جماعت کی تاریخ سے ان کو آگاہ کرنا اور ایسے موثر کردار ادا کرنے والے احمدیوں کی صفات یا انکی زندگیوں کے حالات سے مطلع کرنا جن کا کردار آج بھی زندہ ہے۔جب اس کردار پر آپ نظر ڈالتے ہیں تو وہ آپ کو مرتعش کر دیتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ کی زندگی کے واقعات ہیں۔انہوں نے احمدیت میں بہت مختصر زندگی دیکھی لیکن ایسی عظیم زندگی تھی کہ رشک سے ہمیشہ دنیا کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی کہ کاش ہمارے سینکڑوں سال کے بدلے وہ مختصر زندگی ہمیں نصیب ہو جاتی۔جب ان کے کردار پر نظر آپ ڈالتے ہیں ان کے واقعات سے نئے آنے والوں کو آگاہ کرتے ہیں تو آپ کو کسی زور لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کی باتوں سے زیادہ زندہ وہ کردار آج بھی ہے، آج بھی اس میں اس بات کی اہلیت ہے کہ دلوں کو متحرک کر دے اور خون کو گرم کر دے اور نئے حوصلے پیدا کرے انسانوں میں اور نئے عزم بلند کرے ان کے سینوں میں۔ایسے لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھی تھے انہوں نے کیا کیا کیا۔کس طرح دنیا میں قربانیاں پیش کیں، کس طرح دنیا کو تبدیل کیا، کس طرح قول اور فعل کے سچے ثابت ہوئے، صادق القول