خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد ۵ 742 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور بھی بعض ذرائع اختیار کئے لیکن ایک یہ تھا۔ہٹلر کو ایک بہت قابل جرنیل نے مشورہ دیا کہ اس مسئلہ کو حل کرنا تو بہت آسان ہے۔ہم ایک لاکھ سپاہی پیدا کرنے کی بجائے ایک لاکھ افسر تیار کرتے ہیں۔جہاں تک تعداد کا تعلق ہے ان کو کیا پتہ کہ عملاً اس تعداد میں پھیلنے کی غیر معمولی طاقت آگئی ہے۔لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ بجائے سپاہی کی ٹرینگ کے مجھے اجازت دو میں فوجی تربیت کا ایسا منصوبہ تیار کرتا ہوں کہ ہم ہر ایک افسر تیار کریں گے اور افسر بھی ایسا جو انسٹرکٹر بننے کا اہل ہو۔چنانچہ انہوں نے ایک لاکھ انسٹرکٹر ز تیار کر دیئے بجائے سپاہی بنانے کے۔دوسری ترکیب انہوں نے یہ کی کہ ان کو تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد چھٹی دینی شروع کر دی۔دس ہزار آج نکال دیئے جو تربیت یافتہ تھے اور ان کی بجائے دس ہزار اور بھرتی کرلئے۔دس ہزار کل نکال دیئے اور ان کی جگہ دس ہزار اور بھرتی کر لئے۔جہاں جہاں وہ گئے ان کو تعلیمی اداروں میں مقرر کیا اور کہا کہ اب تم طلباء تیار کرو۔چنانچہ چند سال کے اندر اندر اتنی عظیم الشان فوجی طاقت بن گئی کہ جب چرچل نے توجہ دلائی ، پہلا شخص یورپ میں چرچل تھا جس نے اس خطرہ کو بھانپا تو اس نے توجہ بھی ان الفاظ میں دلائی کہ الارم کی گھنٹی تو بجارہا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بھی لیٹ ہو چکا ہوں۔اب ہمارا اختیار ہی کوئی نہیں رہا۔اب تو جو کچھ نقصان ہو چکا ہے اب یہ غور کرنا ہے کہ اس کی تلافی کیسے کی جاسکے گی مگر نقصان ہو چکا ہے، جو کچھ جرمنی نے کرنا تھا کر لیا ہے اب سارے اتحادیوں کی اجتماعی طاقت بھی اکیلے جرمنی کے برابر نہیں ہے۔تو اسلام نے جو گر سکھایا تھا سید بنانے کا اس کو مسلمانوں نے تو بھلا دیا اور غیر قوموں نے اختیار کیا اور مسلمانوں کو تو اسلام نے دنیا کے فائدہ کے لئے یہ گر سکھایا تھا۔غیر قوموں نے دنیا کو نقصان پہنچانے کے لئے یہ گر استعمال کیا کیونکہ اسلام کے تقویٰ کی تعلیم سے یہ لوگ عاری تھے۔آج دنیا کی سیادت آپ کے سپر د ہے اور جب تک آپ خود سید نہیں بنیں گے آپ دنیا کی سیادت کیسے کریں گے؟ کیسے نئے آنے والوں کو سردار بناسکیں گے۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ ہم اپنے Follow up کی تربیت میں ایسا پروگرام شامل کریں کہ جس کے نتیجہ میں ہر احمدی کو کم