خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد۵ 738 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء نے ہم کو پہنچایا تھا ہم نے اس کو بہت حسین پایا ہے۔ہم نے اس پر عمل کر کے دیکھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے (در متین: ۱۶) تو تم یہی اعلان کر سکتے تھے کہ ہم نے تو اسے اچھا پایا ہے اس نے ہماری زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں ، ہمارے کردار بدل کر رکھ دیئے ہیں، ہمیں گندگیوں سے نجات بخشی ہے اور روحانی تسکین عطا کی ہے تم کیا ظلم کر رہے ہو اپنی جانوں پر کہ ہمیں بچا کر خود ہلاکت میں مبتلا ہور ہے ہو۔میں نے اسے سمجھایا کہ اگر تمہاری طرف سے یہ آواز ان پاکستانی نوجوانوں کے کانوں میں پڑے تو وہ بہت زیادہ مؤثر ہوگی اور بہت زیادہ ان کو شرمندہ کرنے والی اور ان کی غیرت کو چر کہ لگانے والی ہوگی اور واقعہ تم ایک احسان کا بدلہ اتارنے والے ہو گے۔اگر ان رستوں پر چلتی رہیں تمہاری سوچیں جن رستوں پر چل رہی ہیں تو خود بھی نقصان اٹھا جاؤ گے ان کو بھی نقصان میں ڈال دو گے۔تو یہ وہ طریق ہے جس میں دونوں طرف کی تربیت کی ضرورت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جس قوم کو خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے چن لیا ہے اس کی اولیت کو کوئی چھین نہیں سکتا اور اس کی ضرورت کے احساس سے کوئی عقل مند انکار نہیں کرسکتا۔وہ اولین طور پر ہندوستان میں جو ایک خطہ پنجاب ہے اس سے تعلق رکھنے والی قوم ہے اور اسی دائرے کو جب بڑھاتے ہیں تو ہندوستان بحیثیت مجموعی جس میں پاکستان بھی ہے آج کا اور ہندوستان بھی ہے، یہ خطہ سرزمین جسے ہندو پاکستان کا برصغیر کہا جاتا ہے اس علاقے کے لوگوں پر خدا تعالیٰ نے اولین ذمہ داری ڈالی اور اولین طور پر ان میں کوئی مادہ دیکھا ہے اصلاحی۔ان میں بعض مخفی خوبیاں دیکھی ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی نظر نے پہچانا ہے۔اس لئے ان کو چنا ہے، خدا جانتا تھا کہ دنیا کی اصلاح کے لئے ان کے اندر مادہ ضرور موجود ہے۔اس علاقہ کے لوگ جو سو سال سے مسلسل قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور بڑی وفا کے ساتھ حق کو چھٹے ہوئے ہیں یہ بات بتاتی ہے کہ یقینا خدا تعالیٰ کی نظر نے صحیح شناحت فرمائی۔