خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد۵ 737 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء انہوں نے جو باتیں بتا ئیں ان سے معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت ہی بڑا اور حقیقی خطرہ ہے۔ان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو وہاں سے آئے ہیں اور کس کس قسم کے لوگ ہیں۔جو بھی آنے والا تھا وہ سمجھتے تھے کہ خدا کے گھر سے آرہا ہے ، وہاں سے آرہا ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا ہوئے ، جہاں صحابہ نے نئی نسلوں کی تربیت کی وہ احمدیت کے نمائندہ کے طور پر ہر شکل کو دیکھتے تھے۔بعض دفعہ شکل وصورت ، طرز رہنے سہنے کی ، اوڑھنے بچھونے کی ،لباس کی، باتوں کی ایسی طرز ہوتی ہے جو بتا دیتی ہے کہ اس میں دین نہیں ہے اور جب آپ ایسے لوگوں کو اسلام کے نمائندہ کے طور پر دیکھیں آپ کو پتہ نہ ہو کہ وہاں بھی یہ نمائندہ نہیں تھے، وہاں بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے تھے بھاگنے والوں میں سے تھے، تو آپ یہی اثر لیں گے کہ ہمیں تو کچھ اور باتیں بتائی جاتی تھیں، ہم سے تو کچھ اور توقعات رکھی جاتی ہیں اور وہاں کچھ اور باتیں ہو رہی ہیں۔بہر حال بڑی تفصیل سے ان کو رفتہ رفتہ سمجھانے کی کوشش کی اور پھر وہ سمجھ گئے بڑے ذہین آدمی تھے انہوں نے ان فرقوں کو دیکھا اور سمجھا۔ان کو میں نے آخر پر یہ بتایا کہ ان کی غلطی کردار کی لیکن آپ کی غلطی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔آپ نے خدا کو پاکستان کا خدا سمجھ لیا ہے اور جرمنی کا خدا نہیں سمجھا اور اسلام کو پاکستان کا اسلام سمجھ لیا ہے اور جرمنی کا اسلام نہیں سمجھا۔آپ کو تو ہم نے خدا سے روشناس کرایا ہے جو کل عالم اور کل کائنات کا خدا ہے، آپ کو تو ہم نے اسلام سے روشناس کروایا ہے جو سارے عالم کا اسلام ہے۔اس لئے جب آپ نے حاصل کر لیا تو اس کے بعد کسی دوسرے کے محتاج کیوں ہیں اپنی تربیت کے لئے؟ کیا اس کے پھر جانے سے آپ پھر جائیں گے۔کیا اگر غیر خدا کو چھوڑتا ہے تو آپ بھی اس خدا سے دامن تو ڈلیں گے؟ یہ رجحان سب سے زیادہ خطرناک ہے۔آپ اس کے بدلے ایک اور ردعمل دکھا سکتے تھے۔آپ ان خطوط پر بھی سوچ سکتے تھے کہ ان لوگوں نے بڑی مالی اور جانی قربانیاں کیں اور بڑی لمبی جدوجہد کی اور بڑی سخت مشکلات میں اپنے ایمان کی حفاظت کرتے رہے اور ہم تک پیغام پہنچایا اور کامیابی سے پیغام پہنچا دیا۔اس عرصہ میں ان میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ، کچھ بیمار ہوئے اور کچھ خودان مقاصد سے دور جا پڑے۔ہم اور طرح توان کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے کیوں نہ ان کی تربیت کر کے احسان کا بدلہ دیں، کیوں نہ ان کو بتائیں کہ جو اسلام تم