خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد۵ 733 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء خالی نہیں ہونی چاہئے۔اس لئے جماعت احمدیہ جو حقیقی توحید پرست جماعت ہے۔اسے بھی تو حید کا منظر پیش کرنا چاہئے اور اگر جماعت احمدیہ نے اس طرف سے غفلت کی اور ایسا ہونے دیا کہ انگلستان کی جماعت ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہو اور افریقہ کی جماعتیں ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہوں اور یورپ اور امریکہ کی ، چین اور جاپان کی ، انڈونیشیا اور ملائشیا کی اور اسی طرح دیگر ممالک کی جماعتیں اپنا اپنا ایک الگ کردار بنا رہی ہوں تو تو حید قائم نہیں ہوسکتی۔توحید عمل کی دنیا میں دکھائی دینی چاہئے۔خدا کے نام پر اکٹھے ہونے والے ایک محمد مصطفی اللہ کے نام پر جمع ہونے والے ایک ہو جانے چاہئیں اور وحدت کا منظر پیش کرنا چاہئے۔وحدت کے مناظر مختلف زاویوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ایک وحدت کا منظر ہے آپس میں ایک ہو جانا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، جغرافیائی تفریقات کو بھلا دینا، رنگ اور نسل کے امتیازات کو فراموش کر دینا اور ایک جان اور ایک وجود ہو جانا۔اس پہلو سے بھی وہاں تو حید کو دنیا میں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ محض تلقین سے نہیں ہوسکتی بلکہ با قاعدہ اس سلسلہ میں منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔اس پہلو پر غور کرتے ہوئے جو فوری چیز سامنے آتی ہے وہ ہر ملک کے مختلف نسل مختلف رنگوں اور مختلف قوموں سے آنے والے لوگوں کے باہم امتزاج کا مسئلہ ہے اور ہر جگہ یہ مسئلہ اب سراٹھانے لگا ہے اور بعض غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں اس وقت ابھی بھی اور بعض خطرات سامنے ابھر رہے ہیں۔اس لئے فوری طور پر جماعتوں کو اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ اگر انگلستان میں انگریز احمدی ہوتے ہیں تو آپ حسن خلق سے ان سے پیار کر کے، ان کو اپنے معاشرے میں جذب کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ تنہا ہو گئے ہیں۔اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ ایک مغربی معاشرہ سے ایک ایسے معاشرہ کی طرف آئے جہاں مذہبی اقدار تو ملیں لیکن متبادل معاشرہ نصیب نہیں ہوا۔یہ توفیق نہیں ملی کہ جس Civilization کو، جس تمدن کو چھوڑ کر آئے تھے اس کے بدلے میں کوئی تمدن پالیسں اور جو کچھ انہیں دیا جاتا ہے اگر اسلام کے نام پر پاکستانی تمدن دیا جائے تو یہ تو نہ ان کے ساتھ انصاف ہے، نہ اسلام کے ساتھ انصاف ہے۔حقیقت میں ہر قوم کے کچھ تمدنی پہلو ہیں جو اس قوم کی زندگی کا جزو بن چکے ہوتے ہیں اور کچھ مذہبی پہلو ہیں جو تمدن بن چکے ہیں۔جہاں تک اسلام کے تمدن کا تعلق ہے ان دونوں