خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد۵ 728 خطبه جمعه ۳۱ را کتوبر ۱۹۸۶ء خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: میں نے بار ہا یہ تاکید کی ہے کہ جن ملکوں میں ہم رہتے ہیں اگر مقرران کی زبان جانتا ہے تو خواہ ٹوٹی پھوٹی ہی ہوا سے وہی زبان استعمال کرنی چاہئے۔اور مبلغین کو خصوصیت کے ساتھ مقامی ملکوں کی زبان استعمال کرنی چاہئے اور اگر ان کو ابھی نہیں آتی اور اتنی بھی نہیں آتی کہ وہ اس میں مافی الضمیر بالکل ادا ہی نہیں کر سکتے تو جب تک خدا ان کو اس کی توفیق نہیں بخشتا ان کے خطبات کا ترجمہ ساتھ ساتھ ضرور کروانا چاہئے۔میں نے اپنے خطبات کے متعلق بھی بارہا تاکید کی ہے کہ جس جماعت میں میں جاؤں وہاں مقامی باشندوں کا حق ہے کہ ساتھ ساتھ ان کے لئے اس کا ترجمہ ہو لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مقامی جماعت سے یہ فروگزاشت ہوتی ہے۔آج یہاں ترجمہ کا کوئی انتظام نہیں تھا اور یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہوں وہاں اس زبان کے ترجمہ کا کوئی انتظام نہ ہو۔دوسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب اگر فوری طور پر ترجمہ کر کے کیسٹ کی صورت میں ان کو مہیا کر دیا جائے تو اس سے کسی حد تک انشاء اللہ تشنگی کم ہو جائے گی۔لیکن آئندہ یا درکھیں کہ ہر قیمت پر اس کا ڈچ زبان میں ترجمہ ضروری ہے اور جماعت کے فارمل جلسوں میں یعنی با قاعدہ جو جلسے ہوتے ہیں ان میں بھی جب بھی آپ کو مجبوراً اردو استعمال کرنی پڑے تو لازماً اس کا ڈچ زبان میں ترجمہ کریں۔اور نئے آنے والے احمدی نوجوان جو ڈچ نہیں جانتے ان کے فائدہ کی خاطر اردو میں بھی ڈچ سے ترجمہ کریں تو یہ بھی بہت اچھی بات ہوگی لیکن زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ڈچ زبان پرزور دیں جماعتی کاروائیاں ڈچ زبان میں کریں تا کہ ڈچ نواحمدیوں کو ہرگز یہ شکوہ پیدا نہ ہو کہ ہمارے ملک میں رہ کر کوئی اور زبان استعمال کرتے ہیں۔اب دو نماز جنازہ غائب کا اعلان کرتا ہوں۔ایک حافظ عبدالغفور صاحب جو پرانے زمانہ میں کسی وقت جاپان میں مبلغ کے طور پر گئے تھے، مولوی ابوالعطا صاحب جالندھری مرحوم و مغفور کے چھوٹے بھائی تھے ، 13 اکتوبر کو وفات پاگئے ہیں۔عطاء المجیب راشد صاحب کی طرف سے درخواست ہے کہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے۔دوسری نماز جنازہ غائب ہالینڈ کے ہمارے ایک مخلص دوست مسٹر عبداللطیف دی