خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 727

خطبات طاہر جلد۵ 727 خطبه جمعه ۳۱ را کتوبر ۱۹۸۶ء آنکھوں سے، ان کے چہروں کے آثار سے برستا ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کہ جماعت احمد یہ ہی آج وہ جماعت ہے جو قرآن کریم کی اس آیت کی مصداق ہے إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ كه يقينا اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور ان کے اموال بھی خرید لئے ہیں اس وعدے پر کہ یقیناً ان کے لئے جنت ہوگی۔پس وہ جنت تو بعد میں آئے گی اس دنیا میں خدا ہمیں روحانی قربانیوں کی لذتوں کی جنت عطا کرتا چلا جارہا ہے جو روحانی قربانیوں میں شامل ہو گئے ہیں ان کا معیار پہلے سے ہر لحاظ سے بڑھ رہا ہے اور جو زندگی کا سکون ان کو ملا ہے، جو طمانیت نصیب ہوئی ہے، جن لذتوں میں اب وہ وقت گزار رہے ہیں اس سے پہلے کی حالت کے ساتھ اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔مالی قربانی میں اگر کوئی تکلیف ہوتی یا جانی قربانی میں اگر کوئی دکھ پہنچتا تو ایک دفعہ تجربہ کرنے کے بعد جماعت کو پیچھے ہٹ جانا چاہئے تھا۔جو لوگ آگے بڑھتے وہ اگلی دفعہ تو بہ کرتے اور کہتے کہ بس ہو گیا جو ہم سے ہونا تھا اب آئندہ ہم سے یہ توقع نہ رکھیں۔ایک سال بڑی مشکل سے گزارہ کر لیا۔اس کے برعکس اگلے سال پہلے سے بڑھ کر اور اس سے اگلے سال اس سے بڑھ کر وہ دونوں قسم کی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں اور پھر یہ دعائیں کرواتے ہیں کہ خدایا ہمیں اور تو فیق عطادے ،ابھی ہمارے دل کی حسرت پوری نہیں ہوئی۔پس یہ عجیب قسم کا پانی ہے جو سمندر کے پانی کا سامزاج بھی رکھتا ہے اور اس کے برعکس نتیجے بھی پیدا کرتا ہے۔دنیا میں اس پانی کی مثال نہیں ملتی۔سمندر کا پانی پیاس بڑھانے میں مشہور ہے۔پیاسا جتنا بھی اس کو پٹے پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ ایک آگ بھی لگا تا چلا جاتا ہے، بے چینی اور بے قراری بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔مگر خدا کی راہ میں قربانیوں کا پانی ایک عجیب پانی ہے کہ جتنا آپ اسے پیتے چلے جاتے ہیں پیاس تو آپ کی بڑھتی چلی جاتی ہے مگر بے چینی کم ہوتی چلی جاتی ہے، بے قراری کم ہوتی چلی جاتی ہے اور لذت اور طمانیت اور سکینت بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس یہ عجیب پیاس ہے جس کی کوئی مثال نہیں اور یہ عجیب پانی ہے جس جیسا کوئی پانی دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا۔پس اللہ کے فضل کے ساتھ اس آب حیات کو پیتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کے ان وعدوں پر یقین رکھو کہ تم ہی ہو جنہوں نے اس ساری کائنات کا نقشہ بدلنا ہے اور تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔