خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد ۵ 700 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ تو اس سے محض اخروی زندگی کا گھاٹا مراد نہیں بلکہ اس دنیا میں جسے Latter Days یعنی آخری زمانہ کہا جاتا ہے وہ بھی اس آخرت سے مراد ہے۔ یہ واقعہ آخری زمانہ میں رونما ہو گا جبکہ انسان بحیثیت مجموعی اپنے گھاٹے کو پہچان لے گا، جان لے گا کہ میں گھاٹے میں جا چکا ہوں ۔ اس بیان کی تفصیل کو جانچنے کے لئے ہم اس آیت کے مضمون پر ذرا نسبتاً زیادہ گہرا غور کرتے ہیں۔ فرمایا ان الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ یقیناً اسلام ہی ایک وہ دین ہے جو خدا نے بندوں کے لئے چن لیا ہے۔ اسلام کا مطلب کیا ہے؟ اسلام کا معنی ہے کہ اول اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دینا اور کلیہ تابع مرضی مولا ہو جانا یہاں اسلام کا مطلب یہ ہے اور دوسرا اسلام کا مطلب ہے امن بخش، تسکین بخشنے والا طمانیت عطا کرنے والا ، امن دینے والا ۔ اس لحاظ سے جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو مضمون بالکل کھل کر سامنے آجاتا ہے اور انسان کے گھاٹے کی نوعیت بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اسلام کے سوا خدا تعالیٰ کی خاطر کلیہ اپنی مرضی کو چھوڑ دینا ممکن نہیں ۔ ہر غیر دین کی پیروی کر کے دیکھ لو تمہیں رفتہ رفتہ خدا کی عائد کردہ پابندیوں سے آزادی کی طرف لے جائے گا اور تم دیکھو گے کہ انجام کارتم خدا کی عمومی بغاوت پر منتج ہو جاتے ہو۔ وہاں تک پہنچتے ہو جہاں عموماً بغاوت کا ماحول تمہاری سوسائٹی میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ تم Submission کے نام سے ناواقف ہو جاتے ہو تم اس کی روح سے نابلد ہو جاتے ہو۔ تمہیں پتہ نہیں ہوتا کہ کسی ایسی طاقت کے سامنے سر جھکانا کس کو کہتے ہیں جو ظاہری نظر نہیں آرہی جو بے شمار پردوں کے پیچھے چھپی ہوئی ایک طاقت ہے لیکن ہر پردے سے وہ جھلکتی بھی ہے ۔ اس لئے اسلام کے سوا کوئی اور یہ کامل اطاعت کی روح بخش نہیں سکتا اور چونکہ تم خدا کی کامل اطاعت سے دیگر مذاہب میں دن بدن باہر نکلتے چلے جاؤ گے اس لئے تمہیں وہ سودمند زندگی نصیب نہیں ہو سکتی جو اطاعت کے نتیجہ میں ہوتی ہے ۔ بے فائدہ زندگی گزار رہے ہو گے، لا حاصل زندگی گزار رہے ہو گے، یہ مراد ہے گھاٹے سے۔ اس پہلو سے آپ دنیا پر نظر ڈال کر دیکھ لیں تو ہر دین آج اطاعت سے باہر لے کے جارہا ہے، ہر دین آپ کو آج خودسری کی تعلیم دے رہا ہے ۔ گو لفظوں میں نہیں لیکن عملاً اپنے ماننے والوں کو اس مقام تک پہنچا چکا ہے جہاں اتھارٹی کے خلاف بغاوت کی روح دن بدن زیادہ قوت پاتی