خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 696
خطبات طاہر جلد ۵ 696 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء پورا ہوتے ہوئے دیکھ کر انسان کا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ وہ آئندہ دنیا کی پیشگوئی بھی کوئی موہوم خیال نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت پر مبنی پیش گوئی تھی جو اسی طرح پوری ہوگی جس طرح اس دنیا سے تعلق رکھنے والی پیشگوئی پوری ہو چکی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس اسلوب کو ہر قسم کے آئندہ کے ت سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں میں اختیار فرمایا ہے اور قیامت کی باتیں بھی کی ہیں۔دنیا میں قیامت سے پہلے رونما ہونے والے حالات بیان فرمائے ہیں اور تہذیبوں کے فتنے کی باتیں بیان کی ہیں وہ اس رنگ میں بیان کیں کہ کچھ حصے ان کے یا تو ماضی میں پورے ہو چکے تھے یا آئندہ عنقریب پورے ہونے والے تھے انہیں دیکھ کر آئندہ کے متعلق باتوں کا بھی دل میں یقین بیٹھ جائے۔ایک عظیم الشان اسلوب ہے جو قرآن کریم کا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس کے متعلق بڑی تفصیل سے ہمیں آگاہ فرمایا اور اس کی مثالیں دے کر خوب سمجھایا کہ دنیا کے عام عجمین کی پیشگوئیاں یا دنیا کے عام خواب بینوں یا دیگر تعلق باللہ کا دعوی کرنے والوں کی پیشگوئیاں قرآن کریم کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں۔قرآن کریم کی پیش گوئیاں اپنی ذات میں ایک واضح، قطعی یقینی ثبوت رکھتی ہیں اور محض پیشگوئیوں کا رنگ اس طرح کا نہیں کہ اگر کوئی اس وقت تک زندہ رہا تو دیکھ لے گا بلکہ وہ اپنی ذات میں ایسے شواہد رکھتی ہیں جن کا تعلق دو قسم کے مضامین سے ہے: اول نظریاتی لحاظ سے ان کے اندر وہ مواد موجود ہوتا ہے جو عقلوں کو مطمئن کرنے والا ہے، دوسرے مشاہداتی لحاظ سے کسی دور کی پیشگوئی سے پہلے انسان اپنی آنکھوں کے ساتھ اس پیشگوئی کا پہلا حصہ پورا ہوتا دیکھ لیتا ہے جسے دیکھنے کے بعد دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ جو دور کے زمانے کی پیشگوئی ہے وہ بھی پوری ہوگی۔پس آخرت سے متعلق پیشگوئیوں میں قرآن کریم نے ہمیشہ دنیا کے متعلق رونما ہونے والے واقعات کا ذکر اس لئے فرمایا تا کہ انسان یہ نہ سمجھے کہ ایک محض دور کا وعدہ ہے، مرنے کے بعد خدا جانے کیا ہو، خدا ہے بھی یا نہیں۔اس لئے خواہ مخواہ اخروی زندگی کو انسان اس دنیا کی زندگی پر کیوں اثر انداز ہونے دے۔اس عمومی قرآنی پیشگوئیوں کے تعارف کے بعد میں اس آیت کی طرف واپس آتا ہوں جو میں نے ابھی تلاوت کی تھی یعنی اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَام کہ اسلام تو وہ دین ہے