خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد۵ 694 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء لب رہتا ہے۔بعض لوگوں کے متعلق آدمی وہم بھی نہیں کر سکتا کہ عمدا جھوٹ بولیں گا یا ویسے ہی کچی خبر دیں گے۔لیکن بعض لوگ یہ ظلم کرتے ہیں کہ سچی خبر دے دیتے ہیں، ایک غلط بات پہنچا دیتے ہیں۔جہاں تک اس جنازے کا تعلق ہے خدا کے نزدیک اس کی حیثیت ہی کوئی نہیں جو غلط خبر کی بنا پر ہے۔اس لئے نہ جنازہ پڑھنے والوں کی ذمہ داری نہ ان کا اس سے تعلق۔جیسا کہ کالعدم چیز ہو ویسی ہی کیفیت ہے۔مگر اس کے باوجود یہ جو مسئلہ ہے خود کشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھنے کا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کے اوپر بھی کچھ تھوڑی سی روشنی ڈالنی ضروری ہے۔یہ مراد ہرگز نہیں کہ نعوذ باللہ ہر وہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ اس کے بہت سے کوائف ہماری نظر سے اوجھل ہیں لیکن یہ فعل اتنا مکروہ ہے کہ ہوش وحواس میں کسی نے کیا ہے تو اس کی سزا بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملے گی کیونکہ زندگی لینے کا نہ دوسرے کا حق نہ اپنا حق قتل کی سزا ہے یہ جو ایسے شخص کو ملنی چاہئے اور خدا کی رحمت سے مایوسی کی سزا اس کے علاوہ ہو جائے گی۔تو یہ دو ہرا بھیا نک قتل ہے۔اب ہر قاتل کے متعلق بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ جہنمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔بعض پاگل پن میں کرتے ہیں۔بعض نفسیاتی الجھنیں ایسی ہیں جو پاگل پن تک تو نہیں پہنچتیں مگر اللہ کے نزدیک ہوسکتا ہے وہ شخص مرفوع القلم ہو چکا ہو اور یہ کہ وہ جذباتی لحاظ سے ایسا مغلوب ہو جائے کسی وقت کہ بے وقوفی اور نادانی کی حرکت کر بیٹھے تبھی قرآن کریم نے قتل کے بعد وہ ذرائع بیان کئے ہیں جن سے تلافی ہوسکتی ہے۔گناہ کس طرح دھل سکتے ہیں۔لیکن جہاں تک جنازے کا تعلق ہے، جنازے کا ہمیں منع کر دیا گیا ہے کہ اس کا جنازہ نہیں پڑھنا کیونکہ اس نے خدا سے مایوسی کی تھی۔قتل ہی نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کیا۔ایک احتجاج ہے امت کا کہ ہم تیرا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔مگر جہاں تک ہماری دلی تمنا کا تعلق ہے اپنے ہر بھائی کے لئے دل میں رحم کا جذبہ ہونا چاہئے۔استغفار پیدا ہونا چاہئے۔جنازہ نہ پڑھنے میں تکبر نہیں ہے بلکہ جنازہ نہ پڑھنے کے ساتھ دل زخمی بھی ہوتا ہے۔خود کشی کرنے والے پر بھی ایک رحم آنا چاہئے کہ پتہ نہیں کس حال میں اس نے جان دی ہے اور اگر اس دنیا میں بھی بد رہا تو خدا آئندہ اسے نجات بخشے اور اپنی مغفرت جو تام ہے اور ہر چیز پر غالب آنے والی ہے اس کی چادر میں اس کو لپیٹ دے لیکن یہ ایک تمنا ہے جسے ہم مجبور ہیں کہ جنازے کی دعا میں تبدیل نہیں کر سکتے۔