خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد ۵ 64 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو۔اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى (الانفال: ۱۸) جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا یعنی در پردہ الہی طاقت کام کر گئی ۔ انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا یہاں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دشمن اسلام کو بھی اقتداری نشان اس رنگ میں دکھایا گیا ہے جسے وہ مافوق الفطرت سمجھتے تھے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ یہ نشان بھی مومنوں کو تائیدی رنگ میں دکھایا گیا اور وہی ایمان لاتے تھے۔ جہاں تک دشمن کا تعلق ہے نہ انہوں نے مٹھی چلتی دیکھی نہ ان کو علم تھا کہ یہ واقعہ گزرا ہے۔ ان کی ذات کا جہاں تک تعلق ہے ایک بہت ہی شدید آندھی چلی ہے جس میں کنکریاں اٹھ اٹھ کر ان کی آنکھوں اور چہرے پر پڑیں اور ان کو لڑنے کے قابل نہیں رہنے دیا۔ یہ ت قطعی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اقتداری نشان بکثرت دکھائے گئے ہیں لیکن بات صلى الله مومنوں کو دکھائے گئے ہیں ۔ اقتداری نشان جس میں انسانی دخل نظر نہ آئے ۔ پھر فرماتے ہیں: اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت علی کا جوشق القمر ہے اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیا تھا۔ اور اس قسم کے اور بھی معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺ نے دکھلائے ۔ اگر کوئی استثنائی شکل ہے تو وہ شق القمر والی ہے یہ وہ اقتداری نشان ہے جس میں ہم بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ غیروں نے بھی دیکھا مگر اقتداری نشان کے طور پر جیسا کہ بد قسمتی ہوا کرتی ہے کفار کی اسے تسلیم نہیں کیا۔ پھر فرماتے ہیں: کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل پیالہ