خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد۵ 63 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء ملتے ہیں جن کا تعلق خدا تعالیٰ کی خاص رحمت اور شفقت اور تعلق اور محبت کے اظہار سے ہے اور یہ وہ نشانات ہیں جو اپنوں کو دکھائے گئے۔دشمن بار ہا مطالبے کرتا رہا کہ ہمیں کوئی معجزہ دکھاؤ اور معجزہ سے مراد عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ اقتداری نشان ہوا یسا جو عام تقدیر سے فرق کرنے والا ہو ، عام سلوک سے الگ سلوک ہو رہا ہو کسی سے، عام قانون قدرت کے خلاف چیز نظر آتی ہو۔لیکن آنحضرت عالی کی زندگی میں دشمنوں کو ایسے نشان نہیں دکھائے گئے جیسا کہ ان کے تصور میں اقتداری نشان ہوا کرتے تھے۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نہ آسمان نے ان پر پتھر برسائے نہ زمین نے آگ یا پانی اگلا اور غیر معمولی مافوق الفطرت نظر آنے والے نشانات کے ذریعہ ان کو ہلاک نہیں کیا گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مافوق الفطرت یعنی عرف عام میں جسے مافوق الفطرت کہا جاتا ہے مافوق الفطرت نشان نہیں دکھائے گئے۔جہاں تک صحابہ کا تعلق ہے جہاں تک مومنین کی جماعت کا تعلق ہے اس کثرت سے آنحضور ﷺ کو یہ معجزات دکھائے گئے کہ کسی اور نبی کی زندگی میں ایسے تائیدی نشانات کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی۔“ یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہئے کہ دعا کی بحث بالکل الگ ہے۔وہ لوگ جو خدا کو مقتدر جانتے ہیں اور اس رنگ میں جانتے ہیں کہ جس طرح وہ خدائے ذوالاقتدار کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔جواس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاتے ہیں خدا تعالیٰ بعض دفعہ ذ والا قتدار بن کے ان کے اندر داخل ہوتا ہے اور ان سے پھر آگے اقتدار کے نمونے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔یہ وہ واقعات ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں۔فرماتے ہیں: وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی