خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 679
خطبات طاہر جلد ۵ 679 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء چلے جائیں ، جس حد تک دشنام طرازی کر سکیں وہ کرتے چلے جائیں ، جس زبان میں وہ اشتعال انگیزی کرنا چاہیں ان کو کھلی اجازت ہے، کوئی باز پرس نہیں کھلم کھلا اہل ربوہ کے قتل کی تلقین کر میں مسجد میں مسمار کرنے کی تلقین کریں، کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ مٹانے کا وعظ کریں۔ان سب کی ان کو چھٹی ہے اور ہتھیار یہ وہی ہیں جن کو قرآن کریم فرماتا ہے : مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ کہ جن کے ہتھیار ہلکے ہوں گے لازماً ان کا انجام بد ہوگا۔دنیا کی کوئی طاقت ان کو بد انجام سے بچا نہیں سکتی۔اب یہ ہتھیار لے کر کوئی اسلام کی خدمت کر سکتا ہے؟ حیرت ہوتی ہے ان کی عقلوں پر، ان کی فراست پر! فراست تو گہرا معاملہ ہے ظاہری نظر پر یہ تو اتنی واضح بات ہے کہ ایک معمولی سی نظر رکھنے والا انسان خواہ وہ آنکھ کا بیمارہی ہو اگر روشنی اس کی آنکھ تک کسی طرح پہنچ جاتی ہے اس کو بھی نظر آ جانا چاہئے کہ یہ ہتھیار اسلام کی خدمت کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے۔جھوٹ بولنا ، بہتان تراشی کرنا ، گندے الزام لگانا ، گندی زبان استعمال کرنا، مغلظات بکتے چلے جانا ، فرضی باتیں گھڑ گھڑ کے فرضی جرائم دوسروں کے سر تھوپتے چلے جانا یہ تو کوئی طریق نہیں ہے جو کبھی بھی انبیاء یا ان کے تربیت یافتہ امتیوں سے ثابت ہوا۔سارے مذہب کی تاریخ پر نظر ڈال لیں ایک واقعہ بھی آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا کہ انبیاء یا ان کے صحابہ یا ان کے صحابہ کے تربیت یافتہ لوگوں نے یہ ہتھیار لے کر دین کی خدمت کی ہو۔ان کے ہتھیار تو بالکل مختلف ہوتے ہیں۔وہ کیا ہیں ؟ ان کے متعلق میں ابھی بتا تا ہوں لیکن تفصیل سے بتانے کی بھی دراصل ضرورت نہیں ، ساری دنیا جانتی ہے۔ان علماء کو بھی وہ معلوم ہیں۔یہ دل کے اندھے ہیں آنکھ کے اندھے نہیں کیونکہ آنکھ کے اندھے ہوتے تو ان کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا۔ان کو معلوم ہے ، دیکھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بے خبر بن رہے ہیں ، اس کے باوجود انجان ہو رہے ہیں۔کیا ان کو علم نہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے کون سے ہتھیار سجا کر دشمن کا مقابلہ کیا تھا ؟ معلوم ہے اور جانتے ہیں کہ قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کی تاریخ کا خلاصہ یہی بیان کرتا ہے کہ نیک لوگوں متقی لوگوں نے تقویٰ کے ہتھیار سجا کر مقابلے کئے ہیں ، جھوٹ کے نہیں بلکہ سچ کے ہتھیار لگا کر مقابلے کئے ہیں، بد اعمالیوں کے نہیں بلکہ نیک اعمال کے ہتھیا رسجا کر مقابلے کئے ہیں اور دعاؤں کے ہتھیار لے کر انہوں نے مقابلے کئے ہیں۔غرضیکہ قرآن کریم میں پاکیزہ ہتھیاروں کی بڑی تفصیل ہے جو محفوظ کی گئی ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ بعض لوگوں کے یہ ہتھیار ہیں اور بعض لوگوں