خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 677
خطبات طاہر جلد۵ 677 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء صلاحیت کا کہ اس کو دنیا میں کبھی کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا۔جو بھی اس کو نظر انداز کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔جتنا زیادہ کوئی قوم اقتصادی لحاظ سے ترقی کرے گی صنعتی لحاظ سے ترقی کرے گی اتنا زیادہ اس کو لازماً اپنا دفاع مضبوط کرنا پڑے گا۔ویسی ہی بات ہے جیسا ایک امیر آدمی گھر کے پہرے بھی مقرر کر دیا کریا ہے ، تالے بھی مضبوط کرتا ہے، دروازے بھی مضبوط کرتا ہے۔جس کے پاس ہو ہی کچھ نہ اس کو ان چیزوں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہنرن کو والا معاملہ ہو جاتا ہے۔جس کے گھر میں بیچارے کے پاس ہے ہی کچھ نہیں اس نے اپنا دفاع کیا مضبوط کرنا ہے؟ تو مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی یہ اصول اُسی طرح برابر کارگر نظر آتا ہے اور مذہبی قوموں میں بھی بالآخر یہی امر فیصلہ کن ثابت ہوگا۔وہ مقابلے جو مذہبی نقطہ نگاہ سے ہورہے ہیں ان میں بھی فریقین کو دو طرح سے جانچا جا سکتا ہے کس کے ہاں اچھے اعمال زیادہ کثرت کے ساتھ ہیں؟ کون نیکی میں محنت کرنے والے ہیں؟ کون میشہ مسلسل اپنے آپ کو سنوارنے پر لگے ہوئے ہیں اور کون وہ ہیں جن کے پلڑے اعمال حسنہ سے خالی ہیں ، جن کے دامن میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس جھکنے والے اعمال ہیں۔مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُه یعنی ہلکی چیزیں ہیں جو بجائے اس کے کہ وزن پیدا کریں وہ ہلکی ہو جاتی ہیں اور منفی قو تیں پیدا کر دیتی ہیں۔تو خَفَّتْ مَوَازِینہ کا یہ معنی اعمال کی دنیا میں بنے گا کہ جن کے عمل میں کوئی وزن نہیں ہے، بقا کی قوت نہیں ہے جو قوموں کو خفیف کر دیتے ہیں اور ہلکا کر دیتے ہیں اور ان میں زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رہنے دیتے وہ لوگ لازماً شکست کھا ئیں گے۔جن کے پاس اعمال صالح ہیں اور جن کے ساتھ قرآن کریم نے باقیات کی شرط لگائی ہوئی ہے۔صالحیت کا باقی رہنے کے ساتھ ایک گہرا جوڑ ہے۔جتنی زیادہ صالحیت کسی قوم میں بڑھے گی اتنا زیادہ اس کے باقی رہنے کی ضمانت ہوتی چلی جائے گی اور اس کے علاوہ ان کے ہتھیاروں کا موازنہ بھی اسی آیت کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔وہ لوگ جو مقابلے میں اچھے ہتھیار رکھتے ہیں زیادہ قوی ہتھیار رکھتے ہیں وہ لوگ لازماً غالب آئیں گے اور وہ جن کے ہتھیار خفیف نوعیت کے ہیں، ہلکے اور اوچھے اور کمینے ہتھیار ہیں ان کے مقدر میں لازماً شکست ہے۔اس قانون قدرت کو کوئی بدل نہیں سکتا۔