خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 675
خطبات طاہر جلد۵ 675 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء برائی کا مقابلہ نیکی کے ہتھیار سے کریں اپنے گھروں کو مغربی غیر دینی اثرات سے بچائیں نیز ایلسلواڈور کے یتامیٰ کی کفالت کی تحریک ( خطبه جمعه فرموده ۱۷ اکتو بر ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: دنیا میں جب بھی دوفریقوں میں تصادم ہو بمحاربت ہو، خواہ وہ دنیاوی رنگ کی ہو یا نظریاتی رنگ کی یا مذہبی رنگ کی کسی پہلو سے بھی جب فریقین میں کوئی مقابلہ ہو تو اس کا نتیجہ جانچنے کے لئے مختلف انداز فکر سے غور ہو سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ ایک جنگ جب اپنے اختتام کو پہنچے تو اسی وقت معلوم ہو کہ کون سا فریق غالب آنے والا فریق تھا بلکہ اہل بصیرت آثار سے ہی جانچ لیا کرتے ہیں کہ کس فریق نے بہر حال غالب آجانا ہے۔دنیا میں جنگ کے نتیجے معلوم کرنے کے لئے جو طریق رائج ہیں ان میں سے ایک کی طرف قرآن کریم نے بھی اصولی طور پر انگلی اٹھائی ہے اور ایک ایسا بنیادی نکتہ پیش فرمایا ہے جس کی روشنی میں جنگ کے اختتام سے بہت پہلے ہی یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کونسا فریق غالب آنے والا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيْشَةِ رَاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ) فَامُهُ هَاوِيَةٌ وَمَا أَدْرِيكَ مَا هِيَهُ نَارُ حَامِيَةٌ نَ (القارعة : ۱۱۷)