خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد۵ 62 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۸۶ء قبولیت دعا کا نشان اس طرح دکھایا ہے کہ آپ کے زمانہ میں کوئی ایسا مافوق البشر نشان اس رنگ میں ظاہر نہیں فرمایا کہ انسان کو اس میں کوئی دخل نہ ہو۔اور نرمی کا پہلو جیسا کہ حضوراکرم ﷺ نے بیان فرمایا تھا وہی اختیار کیا گیا۔اقتداری نشان صرف عذاب الہی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا کرتے بلکہ اقتداری نشان غیر معمولی رحمت اور شفقت کے اظہار کے طور پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اقتدار میں یہ بات شامل ہے، اس کے مضمون میں یہ بات داخل ہے کہ خدا کی عام تقدیر پر غالب آنے والی ایک اور تقدیر ظاہر ہو جو تقدیر الہی کا ہی حصہ ہومگر غالب تقدیر ہو۔اس غالب تقدیر کو اقتدار کہتے ہیں اور یہ غالب تقدیر محض دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لئے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اپنوں کی تائید میں بھی ظاہر ہوتی ہے اور بعض دفعہ بیک وقت دونوں نمونے دکھاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرے کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا اور گندھنگ کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر پر گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندؤوں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ اردگرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہیں دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔“ (سیرۃ المہدی صفحه : ۲۱۶) پس اقتداری نشانات جو خدا کی طرف سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں عام تقدیر سے ہٹ کر ایک بات ہوتی ہے اور بیک وقت اس رنگ میں بعض دفعہ تائیدی اقتداری نشان بھی ظاہر ہورہا ہوتا ہے اور مخالفانہ اقتداری نشان بھی ظاہر ہو رہا ہوتا ہے۔ایک صاحب بصیرت کے لئے یہ فرق دیکھ لینا کچھ مشکل نہیں رہتا۔آنحضرت عل کے اقتداری نشانات میں سے بڑی تعداد میں ایسے اقتداری نشانات