خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد۵ 60 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۸۶ء یہ وہی دعا تھی کتنا گہرا تعلق تھا حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو ایک طرف انسانیت کے ساتھ اور دوسری طرف اپنے رب کے ساتھ کہ خدا جب اقتداری نشان دکھانا چاہتا ہے یہ فیصلہ فرمالیتا ہے اس وقت بھی آنحضرت علیل نرمی کے طالب ہوتے ہیں اور پھر آپ کی دعاسنی جاتی ہے اور بہت ہی معمولی جانی قربانی کے ذریعے ایک حیرت انگیز عظیم الشان انقلاب رونما ہوتا ہے۔تمام انسانی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔اس قدر شدید مخالفتوں میں جبکہ غلبہ مخالفین کے پاس ہو کمز ور لوگوں کے ہاتھوں بغیر قربانی کے بغیر عظیم جانی قربانی کے ایسا انقلاب کبھی رونما نہیں ہوا، نہ عقلاً ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام آنحضرت ﷺ کی ابتدائی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس ضمن میں ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں اور وہاں بھی بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ کا ہی نظارہ ہے آپ فرماتے ہیں:۔و لیکھرام کا حال کسری سے یعنی خسرو پرویز سے مشابہ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے خط پہنچنے پر اس نے بہت غصہ ظاہر کیا اور حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کر کے میرے پاس لانا چاہئے۔تب اس نے صوبہ یمن کے گورنر کے نام ایک تاکیدی پروا نہ لکھا کہ وہ شخص جو مدینہ میں پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے جس کا نام محمد ہے ( ع ) اس کو بلا توقف گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔اس گورنر نے اس خدمت کے لئے اپنے فوجی افسروں میں سے دو مضبوط آدمی متعین کئے کہ تاوہ کسری کے اس حکم کو بجالا ویں۔جب وہ مدینہ میں پہنچے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ظاہر کیا کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اپنے خداوند کسری کے پاس حاضر کریں تو آپ نے ان کی اس بات کی کچھ پرواہ نہ کر کے فرمایا کہ میں اس کا کل جواب دونگا۔دوسری صبح جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو (جس کو وہ بار بار خداوند خداوند کر کے پکارتے تھے ) اسی کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر کے قتل کر دیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور جب یہ لوگ