خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد۵ 645 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء کہ ان لوگوں سے بھی خدا نا انصافی کا سلوک نہیں کرے گا۔جس حد تک یہ قانون قدرت پر غور کریں گے، جس حد تک یہ استفادہ کرنا چاہیں گے اس حد تک خدا تعالیٰ ان کو ضرور اجر دے گا۔مگر چونکہ یہ دنیا کے اجر پر راضی ہو چکے ہیں وَاطْمَا تُوا بِهَا اور ان کا دل دنیا کی زمینوں اور دنیا کی لذتوں پر اطمینان پکڑ گیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ان سے سلوک کرے گا اور دنیا میں ان کو سب کچھ دے دے گا۔نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ کا مطلب ہے بھر بھر کے پیمانے بھر پور جزاء د دے گا ان کو اس دنیا میں وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ تو ان سے دنیا کے معاملہ میں کسی قسم کی کوئی کنجوسی نہیں کی جائے گی ، کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔بعینہ اس وقت آپ مغرب کی یہی حالت دیکھ رہے ہیں جو قرآن کریم کی حکمتوں کو نہیں سمجھتا، اس کے ذہن میں عجیب عجیب سوال اٹھتے ہیں۔امت مسلمہ کا تو یہ حال ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے سب سے اونچی امت ، سب سے بڑی امت۔لیکن نہایت ہی بدحالی کی حالت میں زندگی گذار رہی ہے ،مفلوک الحال ہے، مغربی قوموں سے بلکہ دہریہ قوموں سے بھی وہ اپنی بقا کی بھیک مانگ رہے ہیں۔خوراک بھی ان سے مانگتے ہیں اور ہتھیار بھی ان سے مانگتے ہیں۔بقا کے یہی دو ذریعے ہیں اور اس کے باوجود وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ تثلیث پرست کہہ کر اندھا یا نصف دیکھنے والا قرار دیتا ہے وہ دنیا کی ہر قسم کی لذتیں حاصل کر رہے ہیں ، عظیم الشان ترقیات حاصل کر رہے ہیں۔باریک در بار یک ان کی نگاہ ہے اور اتنی عظمتیں حاصل کر چکے ہیں کہ انسان اگر ان کی سائنس اور ان کی محنت کے نتیجہ میں ان کے ماحصل کو دیکھے تو واقعی اس طرح سراٹھا کر ان کی بلندیوں کو دیکھنا پڑتا ہے کہ پگڑی گرتی ہے۔یہ کیفیت ہے ان کی سر بلندیوں کی تو آخر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان غلط اور گمراہ لوگوں کے ساتھ یہ سلوک فرما رہا ہے اور جو خدا کے نیک بندے ہیں ان سے وہ سلوک فرما رہا ہے؟ ان آیات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہرگز خدا کسی سے بھی کوئی ناجائز سلوک نہیں کرتا، کسی بندے سے کوئی نا انصافی کا سلوک نہیں کرتا۔امت مسلمہ کے لئے بھی یہ دونوں راستے کھلے تھے، ایک نہیں دور ہیں کھلی تھیں۔امت مسلمہ بھی اس کا ئنات پر غور کر سکتی تھی اور غور کے نتیجہ میں دنیا کا بھی فائدہ اٹھا سکتی تھی اور آخرت کا فائدہ بھی اٹھا سکتی تھی۔لیکن انہوں نے دیکھا اور اس باوجود سمجھنے سے انکار کر دیا۔دیکھا اور جستجو کی کوئی دلچسپی ان کے دل میں پیدا نہ ہوئی ،سرسری سطحی نظر سے اس دنیا سے گذرنا