خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 644 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 644

خطبات طاہر جلد۵ 644 خطبه جمعه ۳ /اکتوبر ۱۹۸۶ء تک روحانی رہنمائی کا تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ کی تخلیق سے کوئی روحانی رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔اس مضمون کو مزید کھولا گیا ہے۔ایک اور آیت میں جہاں فرمایا: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا ( آل عمران : ۱۹۰-۱۹۱) عَذَابَ النَّارِ کہ وہ لوگ جو حقیقی غور کرنے والے ہیں جن کو خدا اہل عقل قرار دیتا ہے وہ صرف سرسری نتیجے نہیں نکالتے یا دنیا سے تعلق رکھنے والے نتیجے نہیں نکالتے بلکہ ان کا غور انہیں یہ ماننے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اتنا عظیم الشان قانون قدرت، اتنا عظیم الشان کارخانہ جس کے اندر تہ بہ تہ حکمتیں کارفرما ہیں، یہ بے کار اور عبث نہیں ہو سکتا اس کا ضرور کوئی مقصد ہوگا۔تو فرمایا کچھ غور کرنے والے ایسے ہیں جو غور کے نتیجے میں دنیا کی حد تک ہی رہتے ہیں اور اُخروی نتیجے اخذ کرنے سے عاری ہو جاتے ہیں۔باوجود یہ سمجھنے کے کہ عظیم الشان حکمتیں اس سارے کارخانہ قدرت کے پیچھے کارفرما ہیں، باوجود یہ جاننے کے کہ ارب ہا ارب سال کی بہت باریک ڈیزائننگ، بہت ہی بڑا دور رس اور دیر تک قائم رہنے والا کارخانہ قائم کیا گیا ہے اور اس کا ایک رخ ہے، اس کی ایک منزل ہے، اس کا ایک مقصد ہے۔وہ ان سب باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنے قریب کے فائدہ کی چیزوں کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کی قدرت کو سمجھتے اور اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ایسی صورت میں ان کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا انصاف کا سلوک ہونا چاہئے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی انصاف کا سلوک ہوتا ہے۔قانون قدرت ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔کچھ ایسے لوگ ہیں جو کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے نہ دنیا کا نہ آخرت کا۔کچھ ایسے لوگ ہیں جو آخرت کا فائدہ تو نہیں اٹھاتے دنیا کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور دنیا کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے قانون کو سمجھتے ہیں اور اس پر غور کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ (هود: ۱۶)