خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 643

خطبات طاہر جلد۵ 643 خطبه جمعه ۳ /اکتوبر ۱۹۸۶ء مطلب ہے کہ یقیناً ان لوگوں کے لئے نشانات ہیں جو متقی ہیں۔اگر عمومی حیثیت سے مسلمانوں کو متقی قرار دیا جائے عیسائیوں کے مقابل پر تو جو نقشہ ہمیں نظر آرہا ہے وہ تو بالکل برعکس ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کے لئے تو اس کائنات میں نشان ہی کوئی نہیں۔آنکھیں بند کر کے گذررہے ہیں اور جو غیر متقی ہیں انہوں نے بے انتہا نشان پالئے اور وہ قدم قدم پر خدا کی عبرت نمائی کے نشان دیکھ بھی رہے ہیں اور ان سے استفادہ بھی کر رہے ہیں۔تو اس کے دو پہلو ہیں جن پر غور کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔اول یہ کہ جن کو ہم متقی سمجھتے ہیں اگر خدا کے قدرت کے نشانات پر ان کی آنکھیں کھلتی نہیں اور ان کو کچھ پیغامات نہیں ملتے جو دنیا سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور آخرت سے بھی تعلق رکھتے ہیں تو ان کو تقی قرار دینے میں ہم نے غلطی کھائی کیونکہ قرآن کریم بہر حال غلطی نہیں کھا سکتا۔اس لئے مومن کی اور متقی کی ایک یہ نشانی بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی کائنات پر غور کرتے ہیں تو انہیں ہر قسم کے نشانات ان میں دکھائی دیتے ہیں، آنکھیں بند کر کے اندھوں کی طرح خدا تعالیٰ کی قدرت کے اوپر سے سطحی طور پر نہیں گذر جاتے بلکہ اس میں ڈوبنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی تہہ سے موتی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔جہاں تک دوسرے پہلو کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اگر تقویٰ کی یہ تعریف ہے تو پھر عیسائیوں کو بھی متقی قرار دینا چاہئے اور دہریوں کو بھی متقی قرار دینا چاہئے اور ان تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بھی جو خدا تعالیٰ کی قدرت میں غور کرنے کے بعد ان سے نتائج اخذ کرتے ہیں تو اس کا کیا جواب ہے؟ اس کا جواب قرآن کریم نے اس سے اگلی آیت میں خود دے دیا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَثُوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ أَيْتِنَا غُفِلُونَ أُولَبِكَ مَأُونَهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) کہ ان غور کرنے والوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غور کے باوجوداند ھے رہتے ہیں لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَييُوةِ الدُّنْيَا وہ ہماری ملاقات سے منکر رہتے ہیں اس لئے معلوم یہ ہوتا ہے ان کا غور اور ان کا تدبر محض دنیا کے معاملات میں ہے اور جہاں