خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد۵ 642 خطبه جمعه ۳ اکتوبر ۱۹۸۶ء عَنْ ابْتِنَا غُفِلُونَ اور جو ہمارے نشانات سے غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرنے والے ہیں أو ليك ماونهُمُ النَّارُ یہی وہ لوگ ہیں جن کا انجام جن کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہوگا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ان باتوں کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں۔ان تین آیات میں مغربی تہذیب کے محرکات اور جن عوامل پر وہ تہذیب بنائی گئی ہے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور چونکہ اس وقت یہ تہذیب بڑی شدت کے ساتھ اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ بروقت ان قوموں کو جن کی ہلاکت کا وقت بہت دور نہیں رہا جماعت احمدیہ کی طرف سے بار بار متنبہ کیا جاتا ہے اور احمدی اپنے گردو پیش، اپنے ماحول میں ان کو متنبہ کرتے رہیں اور متنبہ رکھیں کہ تمہاری تہذیب قرآن کریم کے بیان کے مطابق آخر مٹنے کے قریب آچکی ہے اور وہ آگ جو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے بھڑکائی ہے اس آگ میں تمہارے جلنے کے دن قریب آرہے ہیں لیکن جو تنبیہ کرنے والا ہوتا ہے اس میں خود وہ محرکات نہیں پائے جانے چاہئیں جن کے نتیجہ میں تنبیہ کرنے والے کے خیال میں ایک بات کا انجام بد ہونے والا ہے یا کوئی چیز اپنے بد نتیجہ تک پہنچنے والی ہے۔اس لئے مغربی تہذیب کے وہ کون سے عوامل ہیں ، وہ کون سے محرکات ہیں جن کے نتیجہ میں یہ تو میں ہلاکت کا منہ دیکھنے والی ہیں اور ان کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ان عوامل اور محرکات سے ہر احمدی کو واقفیت ہونی چاہئے اور جب تک ان سے واقفیت نہ ہو نہ خود بچ سکتا ہے اور نہ وہ کسی اور کو بچانے کا اہل ہوسکتا ہے۔اس پہلو سے یہ تین آیات ہمارے لئے بہت ہی بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ تھوڑے الفاظ میں بہت گہری حکمت کی باتیں ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ جو لوگ رات اور دن کے بدلنے میں اور خدا تعالیٰ کی تخلیق میں غور کرتے ہیں ان میں سے صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے نشانات ہیں۔یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے جو قرآن کریم پہلے مختلف الفاظ میں بھی پیش فرما چکا ہے۔جہاں تک ہم دنیا میں جائزہ لیتے ہیں ہمیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے کائنات کی تخلیق میں غور کرنے کے نتیجہ میں بہت زیادہ نشانات ہیں۔ان لوگوں کی محنت کے نتیجہ میں ان کے ہاتھ خدا تعالیٰ کی قدرت کے بہت سے راز آ گئے ہیں اور ان کو ہر قدم پر خدا تعالیٰ کی عظمت کا کوئی نہ کوئی نشان ملتا ہے اور اس پہلو سے وہ لوگ جو غیر متقی ہیں وہ متقیوں سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں اور عملاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں، تو قرآن کریم کی اس آیت کا پھر کیا