خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 628

خطبات طاہر جلد ۵ 628 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء کے نیچے سر جھکا کر یہ عذر پیش کرتی ہیں اور بعض دفعہ ان کو نفس آزادی کے تقاضے کرتا ہے جو بے راہ ہے جو بے راہ روی کی طرف مائل ہوتی ہے اور پھر اپنے خاوندوں اور اپنے بڑوں کو کہتی ہیں کہ دکھاؤ قرآن کریم سے برقع کہاں لکھا ہوا ہے۔ ۔ بہر حال اگر وہ برقع چھوڑ دیں اور پردہ کی تعریف کے مطابق پردہ کریں تو کسی کو بھی کوئی حق نہیں کہ ان پر انگلی اٹھائے اور ان پر اعتراض کرے۔ ہم نصیحت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ پتہ ہے کہ اکثر برقع چھوڑنے کے بعد پھر قدم آگے بڑھنے شروع ہو جایا کرتے ہیں اور اولا دوں پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ اس لئے بطور نصیحت کے بار باران کو توجہ دلائی جاتی ہے اور اگر وہ سختی سے یہ کہیں کہ نہیں ہم اسلامی کم سے کم تعریف پر پورا اتریں گی تو ان کا حق ہے۔ ہم ان کو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے کہ اگر تم کم سے کم کی بجائے زیادہ سے زیادہ کی کوشش کرو تو یہ زیادہ نیکی ہوگی ۔ ایک نفلی کام ہے جو قوم کے لئے محمد اور معاون ثابت ہوگا جو ہماری تہذیب کی حفاظت کے لئے بہت ہی کار آمد ہوگا اور اس دنیا میں اسلامی معاشرہ کو غالب کرنے کے لئے اور غالب آنے والی نسلیں پیدا کرنے کے لئے تمہاری یہ قربانی بہت دور تک اثر دکھائے گی ۔ اس رنگ میں نصیحت تو ہم کر سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ تم کم سے کم پردہ کرتی ہو اس لئے تمہارا سوشل بائیکاٹ ہوگا۔ تمہیں ادنی سمجھا جائے گا۔ تمہیں بدتر کہا جائے گا۔ یہ کسی کو کہنے کا حق نہیں ۔ اس لئے بعض خواتین یا جو برقع میں ملبوس رہتی ہیں جب مجھے یہ کہتی ہیں کہ آپ یہ کیوں کہہ دیا کرتے ہیں پھر کہ کم سے کم پردہ بھی کر لو تو کوئی حرج نہیں اور مجھ سے بعض بحشیں کرتی ہیں ۔ میں ان کو یہی کہتا ہوں کہ یہ کہتا تو ہوں لیکن دوسری ساری باتیں سمجھانے کے بعد کہتا ہوں اور یہ اس لئے کہتا ہوں کہ میرا ہر گز کوئی حق نہیں ہے کہ اسلامی شریعت میں دخل اندازی کروں ۔ اسلام کی شریعت کی دو انتہا ئیں معین ہیں اور واضح ہیں ہمیشہ کے لئے ان کی وضاحتیں کرنا صلى الله ۔ عروسه انبیاء کا کام ہے۔سب سے اول حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا کام تھا اور آپ نے وضاحت فرمائی اور لمبے دور میں جو حدیثیں بگڑیں یا بعض نا قابل اعتماد ہو گئیں اس کے نتیجہ میں دوبارہ جب وضاحت کی ضرورت پیش آئی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمادی ۔ اس وضاحت میں دخل اندازی کرنے والا میں ہوتا کون ہوں ۔ کسی ماں کا بیٹا ہے جو وقت کے امام کو جس کو