خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد۵ 621 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء تقاضوں کے پیش نظر، بیعت کے تقاضوں کے پیش نظر گوہ باغیانہ مزاج کا اظہار تو نہیں کرتیں مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ دل بہر حال مطمئن نہیں کیونکہ اگر دل مطمئن ہوتا تو وہ بے پردگی سے پردے کی طرف لوٹتے ہوئے ثبات قدم دکھاتیں اور جس چیز کو اچھی چیز سمجھ کے پکڑا تھا اس پر قائم رہتیں لیکن بار بار پہلی حالت کی طرف لوٹنے کا رحجان بتاتا ہے کہ ان کے دل حقیقت میں پوری طرح مطمئن نہیں۔جو پہلے گروہ کی خواتین ہیں ان میں سے آگے دو حصے ہیں ایک وہ جو پردہ کرتی ہیں لیکن دوسری خواتین کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں ان کے لئے دعائیں بھی کرتی ہیں ان کو نیک نصیحت بھی کرتیں ہیں اور خود اپنی زندگی استغفار کی حالت میں گزارتی ہیں کہ ایک نیکی کی خدا نے ہمیں توفیق بخشی ہوسکتا ہے کہ دوسری نیکیوں میں ہم اپنی بے پر دبہنوں سے پیچھے ہوں۔تو ان کی یہ نیکی ان کو تکبر کی حالت میں داخل نہیں کرتی بلکہ ان کے انکسار کو بڑھاتی ہے۔یہی ہیں جو سابقات کہلانے کی مستحق ہیں، یہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے تزکیہ کے لئے چن لیا ہے اور اگر نیکی کے ساتھ آپ تکبر کے پہلو کو داخل نہ ہونے دیں تو حقیقی فلاح کا یہی رستہ ہے۔یا دوسرا گروہ ان میں ایسا ہے جو بعض دفعہ نادانی کے نتیجہ میں بعض دفعہ نیکی کے تکبر میں مبتلا ہو کر اپنی دوسری بہنوں کو طعن و تشنیع کے ساتھ چر کے لگاتی ہیں اور اگر ان کو جماعت کے نظام میں کوئی مقام دیا جائے تو اس کی سخت تکلیف محسوس کرتی ہیں اور ایسی حالت میں زندگی بسر کرتی ہیں گویا انہوں نے تو ایک بہت مشکل قدم اٹھایا تھا ایک تکلیف اٹھائی جماعت کے لئے اور نہ تکلیف اٹھانے والوں کو ان کے برابر کر دیا گیا گویا ان کی نیکی میں ایک اور بھی بیماری کا پہلو پایا جاتا ہے وہ اپنی نیکی کوگویا اسلام پر ایک احسان سمجھتی ہیں اور اسلام کا احسان نہیں سمجھتیں اپنی ذات پر کہ جس نے ان کو اس اعلیٰ نیکی کی راہ پر ڈال دیا اور خدا کا احسان نہیں سمجھتیں جس نے توفیق بخشی کہ بظاہر ایک مشکل کام تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ان کو یہ توفیق ملی اور خدا ہی کی طرف سے ملی کہ وہ اس مشکل راہ پر خدا کی خاطر قدم اٹھا ئیں۔اگر ان کو یہ احساس ہوتا یا یہ احساس ہو کہ نیکی کی توفیق پانا اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کا ایک بہت ہی بڑا احسان ہے تو اس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو بہتر سمجھتیں اور خوش حال سمجھتی ہیں اور اپنی کمزور بہنوں پر نفرت کی نگاہ ڈالنے کی بجائے ان کو محبت سے دیکھتیں، ان کو پیار سے دیکھتیں مگر درد اور دکھ کے ساتھ۔