خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 617

خطبات طاہر جلد ۵ 617 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء لیکن بد قسمتی کی انتہا ہے ، ایک عجیب دردناک المیہ ہے کہ اس آقا کے غلام ہو کر جسے مکارم اخلاق کو آگے بڑھانے کے لئے قائم کیا گیا تھا، بلند ترین چوٹیاں جو اخلاق کی آپ سے پہلے تمام بنی نوع انسان نے قائم کی تھیں محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا کہ ہر خلق کی چوٹی سے اس خلق کو اٹھاؤں اور بلند تر مقام پر کھڑا کر کے دکھا دوں کہ یہ ہے اصل مقام۔ان کے غلام ہو کر ان کی طرف منسوب ہو کر آج امت مسلمہ کے اخلاق کا یہ عالم ہو کہ ہر دنیا کی ایرہ غیرہ عام دنیا کی لا مذہب تو میں بھی ان کے اوپر تمسخر کریں اور تشنیع کریں اور کہیں کہ ہاں یہ اخلاق ہیں۔دہر یہ پہ بھی ہنس رہے آج ، بگڑے ہوئے مذاہب والے بھی ہنس رہے ہیں اور مشرک بھی ہنس رہے ہیں، فلسفی دان بھی ہنس رہا ہے اور دنیا وی Civilization اور تہذیب و تمدن کے علم بردار بھی ہنس رہے ہیں۔کیا جماعت احمدیہ نے اس میدان میں آگے قدم بڑھایا ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اتنے گوشے ابھی خلا کے باقی ہیں، اخلاق کی طرف توجہ دینے کا اتنا بڑا کام ابھی باقی ہے کہ اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو ہم دنیا کے معلم قرار نہیں دیئے جاسکیں گے۔اگر اس کے باوجود ہمیں دنیا کا مربی بنا دیا گیا تو یہ دنیا پر احسان نہیں ہوگا۔اس لئے جوں جوں فتح کے دن قریب آرہے ہیں ان گوشوں پر میری نظر پڑتی ہے اور میں خدا کے سامنے ہول سے کانپنے لگتا ہوں کہ اے خدا محض تیرا فضل ہے جو ان حالات کو تبدیل فرما دے اور ہمیں وہ عظمتیں عطا فرمائے جن عظمتوں کی خاطر تو نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ورنہ ہر قدم پر کمزوریاں ہیں، ہر قدم پر رخنے ہیں۔ایک خلا تو نہیں ہر سمت میں کئی خلا ہیں۔جب ہم غیروں کے مقابل پر اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو یقیناً ایک عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے، جب ہم دوسروں کے مقابل پر اپنے اخلاق پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک طمانیت کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے لیکن میں آج جو بات کہہ رہا ہوں وہ یہ نہیں کہ نعوذ بالله من ذالک جماعت احمد یہ دوسری قوموں کے مقابل پر دوسرے مذاہب اور فرقوں کے مقابل پر آج کم اخلاق رکھنے والی ہے۔میری نظر تو محمدمصطفی ع کے خلق عظیم پر ہے۔میں اس لئے یہ موازنہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ ادنی پر راضی ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔اپنے سے نیچے کے اخلاق کے ساتھ آپ نے موازنہ کیا تو آپ ترقی نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ سمجھیں گے کہ آپ کو سب پر فوقیت حاصل ہوگئی۔اگر دیکھنا ہے ترقی کی نظر سے آگے بڑھنے کی خاطر تو ہمیشہ محمدمصطفی ﷺ کے اخلاق پر اپنی نظریں مرکوز رکھیں۔پھر