خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد۵ 604 خطبہ جمعہ ۱۹ ر ستمبر ۱۹۸۶ء أكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَتُقُكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيْمٌ خَبِيرٌ ) اور پھر فرمایا: (الحجرات: ۱۱-۱۴) قرآن کریم کی یہ چند آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں حسن معاشرت کے تمام بنیادی اصول بیان فرما دیئے گئے ہیں اور ان تمام باتوں سے روکا گیا ہے جس سے انسانی معاشرہ کسی نہ کسی رنگ میں بیمار پڑ جاتا ہے اور خوشی کی بجائے دکھوں اور تکلیفوں کا موجب بن جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرت کی بنیاد ہی اس تصور پر ہے کہ ایک انسان جوا کیلے ایک بھلائی کو نہیں پاسکتا اجتماعی کوشش سے وہ بھلائی اس کو نصیب ہو جائے۔ورنہ فی الحقیقت تو انسان ایک خود غرض جانور ہے۔اگر اکیلا رہ کر اس کا بس چل سکتا کہ سب خیر اس کو حاصل ہو جاتی تو وہ کسی دوسرے کی خاطر کسی تکلیف کو بھی برداشت نہ کرتا اور اپنے آرام میں کسی دوسری چیز کو خل نہ ہونے دیتا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے ایک فرد کو دوسرے فرد پر انحصار کرنے والا بنایا ہے اس لئے کہ خدا کے سوا کوئی نہیں جو کسی دوسرے کی احتیاج سے بالا ہو اس لئے ایک انسان کو دوسرے انسان کی احتیاج رہتی ہے لیکن اس احتیاج کی بنیاد خیر پر واقع ہوئی ہے۔اس کا مقصود یہ ہے کہ خیر بڑھے نہ یہ کہ تکلیف بڑھے۔پس معاشرہ میں جب بھی کوئی ایسا عمل جاری ہو یا کوئی ایسا فعل انسان سے سرزد ہو جس کے نتیجہ میں دکھ پیدا ہوتا ہے تو یہ معاشرت کے اصول کے بالکل بر عکس چیز ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ آج کی دنیا میں معاشرہ بالعموم بدیاں پھیلانے کا موجب بن چکا ہے اور خیر پھیلانے کا اور خیر کے حصول کا ذریعہ کم رہ گیا ہے۔قرآن کریم چونکہ بنیادی اصولوں سے تعلق رکھنے والی کتاب ہے اور ہر زمانے پر حاوی ہے اس لئے قرآن کریم نے حسن معاشرت کے اصول بیان فرمائے اور ان چیزوں سے رکنے کی تاکید فرمائی جن کے نتیجہ میں معاشرہ خراب ہو سکتا ہے۔پہلی بات معاشرہ کی تباہی کی موجب افتخار بیان فرمائی گئی۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ دیکھو ایک قوم دوسرے پر بڑائی محسوس کر کے اس رنگ میں اس کی تحقیر نہ کرے، اس رنگ میں اس پر نہ ہنسے گویا وہ اس سے